.

لیبیا کے لاپتا طیارے:11/9 طرز کے حملوں کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لیبیا میں گذشتہ ماہ چرائے گئے گیارہ طیاروں کو شمالی افریقہ میں نائن الیون ایسے حملوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ ''لیبیا میں متعدد تجارتی طیارے لاپتا ہوگئے ہیں۔ہمیں پتا ہے کہ 11 ستمبر کو ان ہائی جیک طیاروں کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے۔یہ ایک سنگین خطرہ ہیں اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا سبب ہے''۔

واضح رہے کہ لیبیا کے شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے 23 اگست کو طرابلس کے ہوائی اڈے پر قبضے کے بعد درجنوں طیارے لاپتا ہوگئے ہیں۔

فجرلیبیا سے تعلق رکھنے والے ان جنگجوؤں نے اتوار کو آن لائن تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں وہ ان طیاروں کے ساتھ کھڑے تھے۔ان تصاویر میں جنگجو کمرشل طیاروں کے پروں پر چڑھ رہے ہیں۔وہ مسکرا رہے ہیں اور کیمرے کے سامنے ہاتھ لہرا رہے ہیں۔

امریکی حکام نے 11 ستمبر2001ء کو طیارہ حملوں کی تیرھویں برسی سے چند روز قبل اسی طرز کے نئے حملوں کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔القاعدہ کے ان حملوں میں 2753 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔القاعدہ کے حملہ آوروں نے دوطیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دو بلندو بالا ٹاورز سے ٹکرائے تھے۔تیسرے حملہ آور نے پینٹاگان کی عمارت سے اپنا طیارہ ٹکرا دیا تھا۔چوتھا طیارہ پینسلوانیا میں ایک کھلے میدان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔اس میں سوار ہائی جیکروں پر مسافروں نے قابو پا لیا تھا اور وہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔