.

مسلمانوں کے خلاف سوچ مریضانہ ہے، فوجی سربراہ فجی

یواین امن فوجیوں کو کچھ ہوا تو خمیازہ مسلمان بھگتیں گے، سابق وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فجی کے آرمی چیف نے اس سوچ کو مریضانہ قرار دیا ہے کہ شام میں اسلام پسند باغیوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے امن کارکنوں کے یرغمال بنائے جانے کا خمیازہ امن پسند ملکوں میں مسلم اقلیتوں کو بھگتنا پڑیں گے۔

خیال رہے اسلامی عسکریت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ نے نے گولان کی پہاڑیوں پر شام اسرائیل راہداری کو ڈیل کرنے والے اقوام متحدہ کے 45 امن فوجیوں کو مبینہ طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔

فجی کے آرمی چیف بریگیڈئیر جنرل موسیس ٹیکوئی ٹوگا کا یہ بیان سابق وزیر اعظم فجی سیٹیون ربوکا کے بدھ کےروز کیے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا '' امن کارکنوں کو کسی قسم کا نقصان ہوا تو اس کی سزا کے لیے فجی کے مسلمانوں کو تیار رہنا ہو گا۔" یاد رہے فجی کی مجموعی آبادی نو لاکھ ہے جن میں سے ساٹھ ہزار مسلمان ہیں۔

سابق وزیر اعظم فجی نے کہا تھا '' اگر اقوام متحدہ کے 45 امن کارکنوں کو کچھ ہوا تو اس کے بدلے میں فجی کے مسلمانوں کو چوٹ سہنا پڑے گی۔"

اس موقف کے سامنے آنے پر جمعرات آرمی چیف نے کہا ہے '' فجی کی فوج تمام شہریوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک کرنے کا عزم رکھتی ہے اس لیے ربوکا نے ایسا بیان دے کر نسلی کشیدگی کی آگ لگانے کی کوشش کی ہے۔"

آرمی چیف نے کہا '' یہ بہت غیر ذمہ دارانہ بیان اور فجی میں تشدد کی راہ ہموار کرنے کی سازش ہے، ایسی سوچ کسی بیمار شخص کی مریضانہ سوچ ہی ہو سکتی ہے۔''

انہوں نے کہا ابھی تک اغوا کاروں کے ساتھ رابطے ہو رہے ہیں اور اقوام متحدہ کے ماہر مذاکرات کار نیو یارک سے متاثرہ علاقے کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔"

فجی کے آرمی چیف نے کہا یہ وقت ملک میں اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ہے نہ کہ ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کا وقت ہے۔ آرمی چیف نے کہا "اغوا کاروں نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اغواء کار جلد رابطے بحال کرلیں گے اور بات آگے بڑھ سکے گی۔"

واضح رہے النصرہ فرنٹ کے اغوا کاروں نے تین مطالبات پیش کیے ہیں جن سے ایک مطالبہ یہ ہے کہ النصرہ کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلقہ فہرست سے نکال دیا جائے۔

النصرہ فرنٹ نے گولان کی پہاڑیوں پر شام اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کے بعد راہداری پر قبضہ کرچکی ہے۔ امن کارکن اسی راہداری پر تعینات تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ امن ورکرز کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔