.

برطانیہ :شامی حکومت کی دعوت کے بغیر حملوں کا اعلان

عالمی قانون کے تحت بشارالاسد کی حکومت جائز نہیں ہے: ڈیوڈ کیمرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام کے اندر صدر بشارالاسد کی حکومت کی دعوت یا اجازت کے بغیر دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ویلز میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے دوروزہ اجلاس میں کہا ہے کہ '' بین الاقوامی قانون کے تحت مغرب کو شام کے اندر داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے شامی صدر بشارالاسد کی دعوت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کے بہ قول بشارالاسد کی حکومت ناجائز اور غیر قانونی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ داعش سے برطانیہ کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔اس لیے برطانیہ عراق میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف امریکا کے فضائی حملوں میں حصے دار ہوسکتا ہے۔تاہم انھوں نے دوٹوک الفاظ میں یہ نہیں کہا ہے کہ ان کا ملک یقینی طور پر امریکی مشن کا حصہ ہوگا۔

برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

درایں اثناء نیٹو کے موقف میں بھی تبدیلی آئی ہے اور اس کے سیکریٹری جنرل آندرے فوگ راسموسین نے کہا ہے کہ تنظیم عراقی حکومت کی جانب سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائِی میں مدد کے لیے کسی بھی درخواست پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔

انھوں نے ویلز میں فوجی اتحاد کے عسکری اور سیاسی حکام کے دوروزہ اجلاس کے موقع پر یہ بیان جاری کیا ہے لیکن انھوں نے جون میں دیے گئے اپنے ہی ایک بیان کی تردید کردی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ نیٹو اتحاد کا عراق میں داعش کے خلاف کارروائی میں کوئی کردار نظر نہیں آتا ہے۔

لیکن اس فوجی اتحاد میں شامل ممالک اپنے طور پر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ اور عراقی فورسز کی مدد کررہے ہیں اور ان کی اس فوجی امداد اور اسلحے کی ترسیل ہی کانتیجہ ہے کہ اب داعش کی شمالی عراق میں فتوحات کا سلسلہ تھم چکا ہے بلکہ اس کو پسپائی کا سامنا ہے۔