.

سعودی عرب :گرفتار مشتبہ افراد اسد حکومت کے ایجنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حال ہی میں گرفتار کیے گئے مشتبہ دہشت گردوں کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ ان میں سے بعض شامی صدر بشارالاسد کے ایجنٹ ہوسکتے ہیں۔ان مشتبہ افراد کی کئی ماہ کی کڑی نگرانی کے بعد گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

سعودی روزنامے الوطن میں جمعہ کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق''سعودی سکیورٹی فورسز گذشتہ نو ماہ سے شامی نیٹ ورک کی مشتبہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کی نگرانی کررہی تھیں اور حکام نے گذشتہ دسمبر کے بعد اڑتالیس شامیوں کو گرفتار کیا ہے۔ان میں سے گیارہ زائرین کے طور پر سعودی مملکت میں داخل ہوئے تھے''۔

ایک اور اخبار ''ثیب'' نے لکھا ہے کہ ''سعودی وزارت داخلہ نے اپنے بیانات میں ان مشتبہ افراد پر عاید کردہ الزامات کو ظاہر نہیں کیا ہے لیکن گذشتہ کئی ماہ کی کڑی نگرانی کے بعد ان کی گرفتاری اس بات کی غماز ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے ایماء پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے''۔

اس وقت سعودی جیلوں میں بند شامیوں کا تعداد کے لحاظ سے غیرملکی قیدیوں میں یمنیوں کے بعد دوسرا نمبر ہے۔ یمنی قیدیوں کی تعداد ایک سو نواسی ہے۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے منگل کو یہ اطلاع دی تھی کہ اس نے غیرملکی دہشت گرد گروپوں سے تعلق کے الزام میں اٹھاسی مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ان مشتبہ افراد کی گذشتہ کئی ماہ سے کڑی نگرانی کی جارہی تھی اور خاص طور پر انتہاپسندانہ نظریات رکھنے والے افراد کی نگرانی کی جارہی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے مشتبہ دہشت گردوں میں سے انسٹھ کو پہلے بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصورالترکی نے اس بیان کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''ان مشتبہ افراد کو سعودی مملکت سے باہر دہشت گرد گروپوں سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں بعض نے بیرون ملک اپنے بچوں کو لڑنے کے لیے بھیجا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''مشتبہ افراد سعودی عرب اور بیرون ملک دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرتکب ہونے والے تھے''۔انھوں نے وضاحت کی کہ ان مشتبہ افراد کے انتہا پسندانہ نظریات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کے لیے تبلیغ کی وجہ سے نگرانی کی جارہی تھی۔