.

صدر اوباما داعش مخالف نئے اتحاد سے متعلق پُراعتماد

داعش کے جنگجوؤں کا القاعدہ کی طرح پیچھا کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی کی بیخ کنی کے لیے ایک وسیع تر بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس جنگجو گروپ کو شکست دی جائے گی اور اس کے جنگجوؤں کا القاعدہ کے ارکان کی طرح پیچھا کیا جائے گا۔

انھوں نے نیو پورٹ ،ویلز میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سربراہ اجلاس کے موقع پر جمعہ کو نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''مجھے پورا اعتماد ہے،نیٹو اتحادی اور اس کے شراکت دار ایک وسیع تر بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ان کے اس اتحاد کا مقصد داعش کو ختم کرنا ہے اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے تاکہ علاقائی قوتوں کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جاسکے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ''یہ سب کچھ صرف ایک رات میں نہیں ہوگا لیکن ہم بڑی تیزی سے درست سمت کی جانب گامزن ہیں اور ہم اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ہم داعش کو پسپا کرنے اور اس کو شکست سے دوچار کرنے جارہے ہیں''۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ''ہمیں داعش پر اس انداز میں حملے کرنے کی ضرورت ہے جس سے انھیں مزید علاقہ ہتھیانے سے باز رکھا جا سکے۔اس مقصد کے لیے وہاں اپنے فوجی اتارے بغیر عراقی سکیورٹی فورسز اور خطے میں دوسروں کو مضبوط کیا جائے گا''۔

جان کیری نے نیٹو کے سربراہ اجلاس کے موقع پر برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،کینیڈا ،آسٹریلیا ،ترکی ،اٹلی ،پولینڈ اور ڈنمارک کے وزرائے دفاع اور خارجہ سے ملاقات کی ہے اور ان سے عراق اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی سے متعلق حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا:''وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ بہت سے ممالک فوجی حملوں میں حصہ نہیں لینا چاہتے ہوں گے لیکن وہ (داعش کے خلاف مہم میں) انٹیلی جنس ،فوجی آلات اور ہتھیار مہیا کرسکتے ہیں''۔

درایں اثناء فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراقی حکومت کی درخواست اور اقوام متحدہ کی منظوری سے بننے والے داعش مخالف کسی بھی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے نیٹو کے دوروزہ اجلاس کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ ممکنہ اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کررہا ہے اور وہ کارروائی کے لیے بھی تیار ہے لیکن اس کے لیے پہلے بین الاقوامی قانون کے تحت ایک سیاسی معاہدہ طے پایا جانا چاہیے۔

ان کے بیان سے عیاں ہے کہ فرانس عراق یا شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی سے قبل اس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری چاہتا ہے اور بین الاقوامی قانون سے ماورا ایسی کسی فوجی مہم کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہوگا۔برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی کہا ہے کہ ان کے ملک نے عراق میں کسی فضائی حملے کا حصہ بننے کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے لیکن وہ ایسے کسی امکان پر غور کرسکتا ہے۔