.

یوکرینی حکومت کی باغیوں سے جنگ بندی کی ڈیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کی حکومت اور روس نواز علاحدگی پسند باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے ابتدائی سمجھوتا طے پاگیا ہے۔

یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو اور یورپ کی تنظیم برائے سلامتی اور تعاون (او ایس سی ای) نے جمعہ کو فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعد اس سمجھوتے کی اطلاع دی ہے۔بیلارس کے دارالحکومت منسک میں او ایس سی ای کے نمائندے ہیڈی ٹیگلیاوینی نے بتایا ہے کہ متحارب فریقوں کے نمائندوں نے جنگ بندی کے پروٹوکول پر دستخط کردیے ہیں۔اس کے تحت آج گرینچ معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق 1500 بجے سے جنگ بندی پر عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے۔

یوکرینی صدر پورو شینکو نے کہا ہے کہ انھوں نے فوجی کمانڈروں کو فائر بندی کا حکم دے دیا ہے۔منسک میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں سابق یوکرینی صدر لیونڈ کوشما ،یوکرین میں متعین روسی سفیر میخائل زورابوف اور یوکرین کے مشرقی شہروں دونتسک اورلوہانسک کی خود ساختہ ''عوامی جمہوریہ'' کے لیڈروں نے حصہ لیا ہے۔

ان مذاکرات سے قبل روسی صدر ولادی میر پوتین نے بحران کے حل کے لیے ایک سات نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا۔تاہم جنگ بندی کی اس ڈیل کے باوجود یوکرین کے مشرقی علاقے لوہانسک میں اپریل سے مسلح تحریک برپا کرنے والے علاحدگی پسندوں کے لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین سے الگ ہونا چاہتے ہیں اور اس کا حصہ نہیں رہنا چاہتے ہیں۔

خود ساختہ عوامی جمہوریہ لوہانسک کے لیڈر آئیگور پلاتنستکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''جنگ بندی کا مطلب یوکرین سے علاحدگی کے لیے ہماری پالیسی کا خاتمہ نہیں ہے''۔

دوسری جانب یوکرینی وزیراعظم آرسینیے یاتسینیوک نے دارالحکومت کیف میں کابینہ کے اجلاس کے بعد امریکا اور یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماسکو نواز باغیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کریں کیونکہ ہم اپنے طور پر روس کے ساتھ اس پر عمل درآمد نہیں کراسکیں گے۔

واضح رہے کہ یوکرین روسی حکومت پر مشرق میں برسرپیکار علاحدگی پسند باغیوں کی پشتی بانی اور انھیں اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔یوکرین کے ان علاقوں میں آبادی کی اکثریتی روسی زبان بولتی ہے اور وہ اسی وجہ سے یوکرین کے بجائے روس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔