.

سر قلم کرنے کا داعشی 'فیشن' لندن تک پہنچ گیا

برطانوی نو مسلم نے خاتون کا سر تن سے جدا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خالفین کو نہایت بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارنے اور سر قلم کرنے کی روایت اسلامی خلافت کی دعوے دار تنظیم دولت اسلامی عراق وشام "داعش" کے ہاں بہ کثرت دیکھی جا رہی ہے لیکن سر قلم کرنے کا داعشی اسٹائل صرف عراق اور شام تک محدود نہیں رہا بلکہ برطانیہ جیسے بڑے یورپی ملک میں ‌بھی اس نوعیت کے واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں شمالی لندن میں ایک نو مسلم نے ایک گھر میں گھس کر 82 سالہ ایک خاتون کو خنجر سے ذبح کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا کہ ایک شخص جس نے کوئی ایک سال پیشتر اسلام قبول کیا ہے کو گلیوں، محلوں اور شاہراؤں پر کھلے عام خنجر لہراتے اور لوگوں کو دھمکیاں دیتے دیکھا گیا ہے۔ اس نے داعشی اسٹائل میں ایک گھر میں گھس کر اطالوی نژاد پالمیرا سیلفا نامی بیوہ بڑھیا کو قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی اور کافی کوشش کے بعد اسے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ملزم کو کئی بار لندن کی شاہراؤں پر شہریوں کو ایک فٹ لمبے خنجر کے ساتھ ڈراتے دھمکاتے دیکھا ہے۔ ایک بار تو اس نے راہ چلتے ایک بلی کو بھی خنجر کے وار سے مارنے کی کوشش کی تاہم وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

برطانوی پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے جای ایک بیان میں شمالی لندن میں "اڈمنٹن" کے مقام پر ایک خاتون کے بہیمانہ قتل کی تصدیق کی ہے۔ جون سانڈلین نامی ایک پولیس افسر اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہو گا کہ کیا ملزم کا تعلق کسی دہشت گرد گروپ سے ہے یا یہ اس کا ذاتی فعل تھا؟

اخبار 'ڈیلی ٹیلی گراف' کے مطابق بڑھیا کا قاتل ایک جانا پہچانا نوجوان ہے۔ اس نے ایک سال قبل اسلام قبول کیا تھا، تاہم مقامی شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ یقین نہیں کرسکتے کہ اس نے ایک نہتی خاتون کا خون کیا ہے۔ برطانوی اخبار 'دی سن' نے اس واقعے کو زیادہ مبالغہ آرائی دیتے ہوئے 'نیو مسلم قاتل' کے عنوان سے سرورق اسٹوری شائع کی ہے جس میں ملزم کے قتل کے جرم سے زیادہ اس کی قبولیت اسلام کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔