.

شام : ہلاک ہونے والا دوسرا صحافی اسرائیلی شہریت رکھتا تھا

بیٹے پر فخر ہے: والدہ ، اس کی موت سے تبدیلی آئے گی: والد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دوسرے امریکی فری لانس صحافی سٹیون سوٹلوف کی والدہ شیریلی نے کہا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہے کہ اس نے اپنے خوابوں کی تعبیر پالی۔ والدہ نے اس امر کا اظہار یہودی معبد میں کی جانے والی سوٹلوف کی یاد میں خصوصی عبادت کے موقع پر کیا ہے۔

اس خصوصی عبادت میں تقریبا ایک ہزار افراد شریک ہوئے جن میں رشتہ دار، دوست اور فلوریڈا کی اہم سیاسی شخصیات بھی شامل ہوئیں۔

سوٹلوف کی والدہ نے اپنے بیٹے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا '' بہت سے لوگ پوری زندگی گذار دیتے ہیں لیکن اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

یاد رہے عراق اور شام کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی دعویدار داعش نے منگل کے روز ایک ایسی ویڈیو انترنیٹ پر جاری کی ہے جس میں سوٹلوف کا گلا کاٹنے ہوئے ایک عسکریت پسند کو دکھایا گیا ہے۔

اس سے پہلے ماہ اگست میں بھی ایک امریکی صحافی کو داعش نے اسی انداز میں قتل کر کے اس کی سر کٹی لاش کی ویڈیو اپ لوڈ کی تھی۔

امریکی صحافی کا گلا کٹنے کے وجہ عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی حملے بتائی گئی ہے۔ تاہم امریکا نے اس نئی ہلاکت کے بعد بھی نہ صرف عراق میں داعش پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ عراق میں مزید 350 فوجی بھجوانے کی بھی منظوری دی ہے۔

دوسری جانب امریکا نے آئندہ دنوں شام میں بھی داعش کے خلاف کارروائی کے پہلے کے مقابلے نسبتا مضبوط اشارے دیے ہیں۔

مقتول یہودی صحافی کے والد نے کہا '' میں تو اپنے بیٹے اور بہترین دوست سے محروم ہو گیا ہوں لیکن اس کی موت دنیا کو تبدیل کرنے کا باعث بنے گی۔''

اس موقع پر دیگر مقررین نے اسے بہادر اور باہمت قرار دیتے ہوئے کہا ''اس نے مشرق وسطی کے تصادم میں قابو آئے لوگوں کے بے چارگی کو واضح کیا ہے۔''

خیال رہے اس صحافی کو شام میں اگست 2013 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ترکی کی سرحد عبور کر کے شام پہنچا تھا۔

امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے کہا '' سٹیون سوٹلوف سچ کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا تھا، اس نے برائی کی اصل شکل آج کی دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔''

واضح رہے سٹیون سوٹلوف کا مشرق وسطی سے پرانا تعلق تھا۔ وہ مشرق وسطی سے پہلی مرتبہ بچپن میں اسرائیلی دورے سے متعارف ہوا۔ اس کی سکولنگ بھی اسرائیل میں ہوئی بعد ازاں وہ اسرائیل کا شہری بن گیا۔ وہ عربی بول سکتا تھا اور خطے میں سفر کر کے مختلف جریدوں میں لکھتا تھا۔