.

صومالی کمانڈر کی ہلاکت، الشباب کا عظیم نقصان ہے: وائٹ ہاوس

احمد گودان کے پائے کا کوئی کماندر الشباب میں موجود نہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حملے کے دوران صومالی اسلامی عسکریت پسند تنظیم الشباب کے رہنما احمد عابدی گودان کی ہلاکت کو وائٹ ہاوس نے الشباب کے لیے غیر معمولی دھچکے کا نام دیا ہے۔

امریکی پینٹا گان نے جمعہ کے روز کیے گئے اپنے ایک کامیاب حملے میں الشباب لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

مارے جانے والی صومالی عسکریت پسند لیڈر کی بہت تھوڑی تصاویر دستیاب ہیں۔ وائٹ ہاوس نے اس ہلاکت کی تحسین کرتے ہوئے اور عسکریت پسندوں کے لیے ایک بڑے نقصان کی علامت قرار دیا ہے۔

احمد عابدی کی زیر قیادت الشباب کی عسکری کارروائیوں اور اس کی القاعدہ سے قربت کی وجہ سے امریکا نے اسے دنیا کا آٹھواں خطرناک دہشت گرد قرار دے رکھا تھا۔ جبکہ اس کے سر کی قیمت سات ملین ڈالر لگا رکھی تھی۔

ایک امریکی فوجی کارروائی میں الشباب کے مارے جنے والے اس لیڈر کو مختار علی زبیری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ صومالیہ کے شمال مغربی شہر ہر کیزیا میں 1977 میں پیدا ہوا، جبکہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں اس نے انتہا پسندانہ خیالات کو اپنانا شروع کیا۔ وہ صومالیہ میں کوئلے کے کاروبار سے بھی متعلق رہا۔

گودان صومالیہ میں ایک کم گو اور سنجیدہ مگر کرشماتی شخصیت کے طور مشہور تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت شاعری میں گزرتا کے وہ ایک منجھا ہوا شاعر بھی تھا۔ پڑھنے لکھنے کا رجحان رکھنے کی بنیاد پر اس نے الشباب کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی۔

صومالیہ میں تعلیمی میدان میں وظیفہ حاصل کرنے کے بعد گودان نے اعلی تعلیم کے لیے 1998 میں پاکستان کا سفر کیا لیکن وہ مبینہ طور پر تعلیم سے غائب ہو کر افغانستان پہنچ گیا۔

افغانستان سے صومالیہ واپسی پر گودان بے متعدد عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا۔ دارالحکومت میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے بعد 2006 میں وہ الشباب کو معروف نام بن گیا۔

اسی دوران اس کا نام ایک برطانوی جوڑے کی ہلاکت کے حوالے سے بھی سامنے آیا اس کی موجودگی میں 2008 سے 2010 کے درمیان الشباب کا سنہری دور رہا۔

گودان نے 2009 میں الشباب کو باقاعدہ طور پر القاعدہ کے ساتھ منسلک کر دیا۔ اور اپنی عسکری کارروائیوں کو صومالیہ تک محدود رکھنے کے بجائے دوسرے ممالک تک پھیلانے کی راہ ہموار کی۔ اسی الشباب رہنما نے 2010 میں یوگنڈا کے دارالحکومت میں کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ۔ اس کارروائی میں 74 افراد ہلاک ہوئے تھے۔2013 میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے اہم شاپنگ سنٹر پر حملہ کر کے 67 افراد کو بھی الشباب نے ہلاک کیا۔

واضح رہے القاعدہ کی طرح یہ گروپ اسلام کی اپنی تشریح کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے دوسرے اتحادیوں کو یہ تشریح قبول نہیں ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک سے وابستہ احمد سلیمان کا کہنا ہے کہ '' احمد عابدی گودان اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر طویل عرصہ تک الشباب کا قائد رہا۔ اس نے اپنی تنظیم میں اپنی قیادت کے لیے موجود خطرات کو بھی ٹھنڈا کیا۔'' اب اس کی جگہ پر الشباب کی قیادت سنبھالنے کے لیے اس کے پائے کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ اس لیے گودان کی ہلاکت الشباب کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔