.

یمنی حکومت کے خلاف حوثیوں کے پرتشدد احتجاج میں شدت

صدر نے ایک ہفتے میں حکومت تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ‌حکومت کے خلاف جاری شیعہ حوثی قبائل کا احتجاج اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا خدشہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ ‌نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز بھی دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف ان کا احتجاج اب اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے وہ احتجاج کا دائرہ مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ادھر دوسری جانب ملک کے طول عرض میں حوثیوں کی حمایت اور مخالفت میں بھی جمعہ کو احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ بعض مقامات پر یمنی فوج اور صدر عبد ربہ منصور ھادی کی حمایت میں بھی ریلیوں کا اہتمام کیا گیا۔ حکومت کے حامی مظاہرین نے حوثیوں کے احتجاج کی مذمت کی اور ان سے پرتشدد مظاہرے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حکومت نواز "حارث" قبیلے کے سیکڑوں افراد نماز جمعہ کے بعد صنعاء کی سڑکوں پر بندوقیں اٹھائے نکل آئے۔ انہوں‌ نے صدر عبد ربہ کی حمایت اور حوثیوں کی مخالفت میں شدید نعرے بازی کی۔

خیال رہے کہ حوثی قبائل پچھلے تین ہفتے سے دارالحکومت صنعاء میں حکومت کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت جنوبی یمن میں حوثی اکثریتی علاقے کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دے۔

نیز ملک میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ تین ہفتوں سے جاری احتجاج میں اب دوسرے طبقات کو بھی شامل ہوتے دیکھا جا رہا ہے، جس سے حوثیوں کے موقف کو تقویت مل رہی ہے۔ حکومت مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے میں ناکام ہے۔ صدر عبد ربہ ہادی متعدد بار مظاہرین کو طاقت کے ذریعے منتشر کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

دارالحکومت صنعاء میں فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز یمنی فوج کے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں سڑکوں پر گشت کرتی رہیں اور پولیس کی غیر معمولی پٹرولنگ جاری رہی۔ دارالحکومت کی اہم تنصیبات اور سرکاری عمارتوں کی سیکیورٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر حوثی قبائلی لیڈر عبدالملک حوثی نے حکومت کے استعفے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن کی موجودہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اسے ہر صورت میں اب گھر جانا ہو گا۔ کئی سال سے مسلح تصادم کی راہ اپنانے والے حوثیوں نے حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ایک ہفتے میں نئے وزیر اعظم کے تقرر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا 30 فی صد اضافہ واپس لینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔