.

قطر کے لیے جاسوسی، مرسی پر فرد جرم عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا ہے کہ قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی پر خلیجی ریاست قطر کو قومی سلامتی سے متعلق اہم دستاویزات فراہم کرنے کے جرم میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر میں حکومتی استغاثہ کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا ہے کہ زیر حراست سابق صدر محمد مرسی کو قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں 15 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ اپنے دور حکومت میں ‌انہوں ‌نے قومی سلامتی سے متعلق اہم دستاویزات قطر کو فراہم کی تھیں۔ فرد جرم عائد ہونے کے بعد پراسیکیوٹرحکام جیل ہی میں سابق صدر سے پوچھ گچھ کریں گے۔

اخبار "بوابہ الاھرام" نے عدالت کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق صدر کے ساتھ دیگر ملزمان میں ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری امین الصیرفی اپنی بیٹی کریمہ صیرفی بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں انہیں بھی اسی مقدمہ میں فرد جرم سنائی گئی ہے۔

مصر کے جوڈیشل حکام اس سے قبل بھی اسی مقدمہ میں سابق صدر محمد مرسی سے تفتیش کرچکے ہیں لیکن انہوں نے کسی قسم کا جواب دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات بے بنیاد قرار دیے ہیں۔

ان سے جب بھی کسی مقدمہ کی تفتیش کی گئی تو ان صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ وہ ملک کے منتخب آئینی صدر ہیں۔ ایک منتخب صدر سے تفتیش آئین اور قانون کی رو سے درست نہیں ہے۔ اس لیے وہ کسی تفتیش کار کے سوالوں کے جواب دینے کے پابند نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ تین جولائی 2013ٰء کو فوج کے ہاتھوں معزول ہونے والے صدر محمد مرسی پر چار الگ الگ مقدمات چل رہے ہیں۔ عوامی بغاوت کے وقت مظاہرین کا قتل عام، حماس کے لیے جاسوسی اور جنوری 2011ء میں جیل توڑ کر فرار ہونے کے الزامات شامل ہیں۔