.

تیونس : النہضہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت النہضہ نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ تمام تیونسیوں پر مشتمل قومی حکومت کے قیام کے لیے کیا ہے۔

النہضہ کے ترجمان زاید الازہری نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم تیونسی عوام اور سیاست دانوں کو ایک مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں۔ہم تمام انتخابی مقابلوں میں اپنی بالادستی نہیں چاہتے ہیں۔خاص طور جبکہ النہضہ آیندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہی ہے''۔

النہضہ نے تیونس میں 2011ء میں منعقدہ پہلے آزادانہ پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں النہضہ پر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کا الزام عاید کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ سیکولر شہری آبادی کے مفادات کو نظر انداز کررہی ہے اور وہ راسخ العقیدہ اسلام پسندوں کے بارے میں نرم روی اختیار کررہی ہے۔

تیونس کے وسیع البنیاد آئین کے تحت 26 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہوں گے اور ان کے بعد انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوجائے گا اور ملک میں مکمل جمہوریت بحال ہوجائے گی۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق النہضہ اور اور سیکولر جماعت ندا تونس کو تیس فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔

النہضہ کی جانب سے اب صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے اعلان پر یہ قیاس آرائی کی گئی ہے کہ وہ شاید نداتونس کے ساتھ مل کر نئی اتحادی حکومت بنائے گی۔ النہضہ کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے لیے ایک ایسے متفقہ امیدوار کی حمایت کرے گی جو تمام تیونسیوں کو متحد رکھ سکے۔تاہم اس جماعت نے ابھی تک ایسے کسی متفقہ امیدوار کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

صدارتی امیدواروں سے سوموار سے کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے۔توقع ہے کہ موجودہ صدر منصف مرزوقی ،ندا تونس کے سربراہ بیجی سید عصیبی ، ری پبلکن پارٹی کے لیڈر نجیب شیبی اور طیار المہابا پارٹی کے سربراہ ہاشمی حامدی صدارتی امیدوار ہوں گے۔