.

داعش انسانی خون کی ندیاں بہانا چاہتی ہے: یو این

عالمی برادری اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نئے کمشنر نے عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو تنظیم دولت اسلامی (داعش) کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ان دونوں ممالک میں خون کی ندیاں بہانا چاہتی ہے۔

انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے کہا ہے کہ ''داعش کے اقدامات سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ تکفیری (انتہا پسند) کیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور یہ تحریک مستقبل میں کیا نظام بنانے کی کوشش کر رہی ہے''۔

انھوں نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اپنی افتتاحی تقریر میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کے حملوں کا نشانہ بننے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔ان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں جاری تنازعات میں مذہبی اور نسلی اقلیتیں مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔

اردن سے تعلق رکھنے والے زید رعدالحسین نے ان مذہبی اور اقلیتوں گروپوں کے علاوہ بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبری بھرتی اور جنسی تشدد کے خطرے کا سامنا ہے۔

انھوں نے عراق کی نئی حکومت اور وزیر اعظم حیدر العبادی پر زور دیا ہے کہ وہ ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں شمولیت پر غور کریں تاکہ ان کے ملک میں رونما ہونے والے جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔