.

داعش کا مقابلہ، امریکی حکمت عملی کا خاکہ تیار

صدر اوباما کانگریس ارکان کو کل اعتماد میں لیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر اوباما داعش سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کے بنیادی خطوط پر تبادلہ خیال کے لیے کانگریس کے ارکان سے منگل کے روز ملاقات کریں گے۔

اس موقع پر صدر اوباما نے کہا '' میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ امریکی عوام داعش کے اس درپیش خطرے کی حقیقت سے آگاہ ہو جائیں اور یہ اعتماد پالیں کہ ہم اس خطرے سے نمٹ سکتے ہیں۔''

امریکی صدر نے اس امر کا اظہار اپنے ایک تازہ انٹرویو کے دوران کیا ہے جس کا اہم ترین اور امریکا کے لیے حساس ترین چیلنج بننے والی داعش کے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔

بتایا گیا ہے اوباما کی کانگریس ارکان کے ساتھ ملاقات عرب وزرائے خارجہ کے قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے بعد ہو گی۔ واضح رہے عرب لیگ پہلے ہی انتہا پسند عسکری گروپ کے ساتھ نمٹنے کے لیے جامع کوششوں پر متفق ہو چکی ہے۔ دوسری جانب نیٹو ممالک بھی داعش کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے اصولی اتفاق کر چکے ہیں۔

دریں اثناء امریکا کی جانب سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو جنگی طیاروں سے نشانہ بنانے کا عمل جاری رہا ہے۔ داعش نے عراق میں اپنے قبضوں کے سلسلے میں سب سے پہلے سنی اکثریتی صوبے انبار میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں اس نے موصل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

امریکا کی طرف سے اپنی تازہ فضائی کارروائیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے '' داعش کی کمانڈ پوسٹس اور متعدد گاڑیوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان نشانہ بنائے گئے ٹھکانوں میں طیارہ شکن توپ خانہ بھی شامل ہے۔

ایک عرب سفارتکار نے مصر کے خبر رساں ادارے مینا سے بات کرتے ہوئے کہا '' داعش کے خلاف امریکا کی حمایت کے حوالے سے ایک قرارداد کی منظوری دی جائے گی۔ ''

انہوں نے مزید کہا '' داعش نہ صرف عراق کے لیے بلکہ دوسرے پڑوسی ملکوں کے لیے بھی ایک خطرہ ہے، یہ ان چیلنجوں میں سے ایک ہے جس نے عرب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ایک اہم ذمہ دار کا اس بارے میں کہنا ہے کہ '' جان کیری نے داعش سے متعلق ممکنہ حکمت عملی اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کر چکے ہیں، وہ عرب لیگ کے ذمہ داروں کو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عرب لیگ داعش کے خلاف امکانی تشکیل پانے والے اتحاد کے بارے میں مضبوط موقف اختیار کرے۔''

تاہم امریکا کی داعش سے نمٹنے کے لیے حتمی حکمت عملی کا امریکی صدر اوباما کانگریس کے ارکان سے ملاقات کے بعد اعلان بھی کر سکتے ہیں ، کیونکہ نیٹو سے مذاکرات پہلے ہی ہو چکے ہیں۔