.

سعودی حکام کی قاہرہ میں صدر السیسی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل اور انٹیلی جنس چیف شہزادہ خالد بن بندر بن عبدالعزیز نے قاہرہ ایوان صدر میں مصری صدر فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری ایوان صدر کے ترجمان ایہاب بدوی نے بتایا کہ تینوں رہ نماؤں کے مابین ہونے والی بات چیت میں مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات، سعودی عرب اور مصر کے درمیان باہمی تعلقات، لیبیا میں‌ جاری سیاسی بحران اور عراق و وشام میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خطرے اور ان سے نمٹنے سےمتعلق موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مصری صدر اور سعودی وزراء نے لیبیا میں منتخب پارلیمنٹ کی حمایت پر اتفاق کیا اور امید ظاہر کی لیبیا جلد موجودہ سیکیورٹی اور سیاسی بحران سے نکل آئے گا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ ان کا ملک لیبیا میں سیاسی استحکام اور دیرپا قیام امن کا خواہاں ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ ہم لیبیا کو دہشت گردی کا اڈا نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیبیا کو بحران سے نکالنے کے لیے قاہرہ اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہے تاہم انہو‌ں نے لیبیا میں بیرونی مداخلت پر انتباہ کیا اور کہا کہ لیبیا کے عوام کو خود اپنے مسائل کے حل کا موقع ملنا چاہیے۔

تینوں رہ نماؤں نے عراق اور شام میں جاری کشیدگی کے جلد خاتمے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ مصری صدر کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب جیسے اتحادی اور دوست ممالک کے تعاون سے شام اور عراق میں جاری بحران اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ انہوں ‌نے کہا کہ عراق و شام کی سلامتی پورے عرب خطے کی سلامتی ہے۔ ان ممالک کو دہشت گردی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔