امریکی فضائی حملے میں 11 افغان شہری ہلاک

افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے فضائی حملے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں امریکی فوج کے فضائی حملے میں گیارہ شہری ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔افغان صدر حامد کرزئی نے عام شہریوں پر اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

کابل میں بدھ کو صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔بیان کے مطابق صوبہ کنڑ کے ضلع نارنگ میں امریکی فضائی بمباری میں مرنے والوں میں دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں تعینات نیٹو کے تحت ایساف فورس نے فوری طور پر افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے اور اپنے ایک بیان میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وہ اس آپریشن کے حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔اس نے بیان میں مزید کہا ہے کہ کنڑ میں منگل کو ایک اور حملے میں ایک مسلح جنگجو مارا گیا تھا اور اس میں کوئی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔

صوبہ کنڑ کے پولیس سربراہ عبدالہادی سیدخیل نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ نارنگ میں جنگجوؤں نے افغان اور نیٹو کی ایک مشترکہ گشتی پارٹی پر حملہ کیا تھا جس کے بعد غیر ملکی فورسز نے فضائی مدد طلب کی تھی اور طیارے کی بمباری کے نتیجے میں متعدد جنگجو اور شہری مارے گئے ہیں۔پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

اس حملے میں زخمی ہونے والے ایک افغان شہری صالح محمد نے بتایا ہے کہ ان پر دو مرتبہ بمباری کی گئی تھی۔وہ اس وقت صوبائی دارالحکومت اسد آباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ہمارے گاؤں کے چار افراد کام سے واپس آرہے تھے۔پہلے ان پر بمباری کی گئی ۔ جب لوگ ان کی میتیں لینے یا زخمیوں کو اٹھانے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچے تو ان کو بھی ایک اور حملے مِیں نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں