مسلم رہ نماؤں کی پیرس اپیل:داعش کی سفاکیت کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے سرکردہ مسلم رہ نماؤں نے عراق اور شام میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کی ہولناک سفاکیت ،لوگوں کو اجتماعی طور پر قتل کرنے اور انھیں غائب کرنے پر شدید مذمت کی ہے۔

ان مسلم رہ نماؤں نے منگل کو فرانسیسی دارالحکومت کی جامع مسجد سے ''پیرس اپیل '' کے نام سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں داعش کے مظالم وسفاکیت کو انسانیت کے خلاف بدترین جرائم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اب لوگوں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں اور پورے خطے کے استحکام اورامن کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ '' دستخط کنندگان دوٹوک الفاظ میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، یہ انسانیت مخالف جرائم ہیں۔یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسلام اس طرح کے گروہوں ،ان کے حامیوں اور بھرتی شدگان کی وکالت نہیں کرتا ہے۔ ان کی جہاد کی دعوت اور نوجوانوں کو اس کے لیے بھرتی کرنے کی مہم اسلامی تعلیمات کے منافی ہے''۔

مسلم رہ نماؤں نے عراق اور شام میں لڑنے والے جنگجو گروپوں کی جانب سے نوجوان یورپیوں کو بھرتی کرنے کی بھی مخالفت کی ہے۔فرانس کے شمالی شہر للی کی مسجدالایمان کے امام عمارالاسفر نے العربیہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نوجوان فرانسیسی مسلمانوں کو شام اور عراق جانے اور وہاں داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے پر خبردار کرتے ہیں''۔

انھوں نے جہاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ''جولوگ فرانس سے عراق اور شام میں لڑائی کے لیے گئے ہیں،وہ جہادی نہیں ہیں بلکہ ان کو ذہنی غسل دے کر وہاں لے جایا گیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر نوجوان ایسے ہیں جو فرانسیسی معاشرے میں گھل مل نہیں سکے ہیں''۔

علامہ عمار نے فرانسیسی مسلمانوں پر زوردیا کہ وہ معاشرے میں گھلنے ملنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں ،ڈگریاں حاصل کریں اور فرانس میں اپنا رہن سہن بہتر بنائیں۔انھوں نے کہا کہ داعش جو کچھ کررہی ہے،یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو قتل کرنا ،انھیں زبردستی اسلام میں داخل کرنا اور عورتوں پر جبرو تشدد کبھی اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''ایک اسلامی ریاست چند دنوں میں قائم نہیں ہوسکتی ہے اور داعش بالآخر اپنا وجود کھو بیٹھے گی۔القاعدہ اور داعش ایسی تنظیمیں اسلامی اُمہ میں ایک بگاڑ (ڈس آرڈر) کی نشان دہی کرتی ہیں''۔

فرانس بھر سے تعلق رکھنے والے دوسرے ائمہ نے بھی عراق اور شام میں لڑنے والے سخت گیر جنگجوؤں کو مسترد کردیا ہے۔پیرس کی مرکزی جامع مسجد کے ریکٹر اور فرانسیسی کونسل برائے مسلم عقیدہ کے صدر دلیل بوبکر نے داعش کی چیرہ دستیوں کو مسترد کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

فرانسیسی ریڈیو آر ایف آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''فرانسیسی مسلمان داعش کے ان سفاکانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور تمام اقوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کو مسخ کرنے والی ان سنگین کارروائیوں کی بیخ کنی کے لیے متحد ہوجائیں''۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ سے شام اور عراق میں جا کر لڑنے والے جہادیوں میں فرانسیسی نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔فرانسیسی حکومت سخت اقدامات کے باوجود انھیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق اس وقت ان دونوں ممالک میں قریباً دو ہزار یورپی شہری لڑائیوں میں شریک ہیں اور ان کی واپسی سے ان کے آبائی ممالک میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں