قطر میں مزدوروں کے حالاتِ کار بہتر بنانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کی مزدور تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں نے خلیجی ریاست قطر میں غیر ملکی تارکین وطن کے حالاتِ کار بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس ایسوسی ایشن کے مطابق ٹریڈ یونین کانگریس کا لیور پول میں کنونشن منعقد ہورہا ہے جس میں مزدوروں کو حقوق دلانے سے متعلق اصلاحات پر بھی بحث کی جائے گی۔ان کے تحت قطر میں 2022ء میں فیفا عالمی کپ ٹورنا منٹ کے انعقاد کے لیے تعمیر کیے جانے والے اسٹیڈیمز کی جگہوں کا جائزہ لینے کی اجازت کا مطالبہ کیا جائے گا۔

کنونشن میں شریک تعمیراتی ورکروں کی یونین کا کہنا ہے کہ قطر میں مقیم قریباً بیس لاکھ تارکین وطن نامساعد حالات میں کام کررہے ہیں اور انھیں اپنے آجر کی اجازت کے بغیر کام کی جگہ سے جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔انھیں شدید گرم موسم میں اضافی اوقات میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انھیں ایک ڈالر سے بھی ایک گھنٹے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔

یونین نے اپنے مجوزہ اعلامیے میں فیفا سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیرملکی تارکین وطن کا استحصال روکنے کے لیے قطر کو فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی سے محروم کرنے کی دھمکی دے۔

کنونشن کے ایجنڈے میں قطر اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ تجارتی سمجھوتے پر غور بھی شامل ہے۔یہ سمجھوتا اگر طے پاجاتا ہے تو پھر صحت عامہ کی سہولتوں کو نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے گا۔یونین کے لیڈروں نے یورپی پارلیمان کے برطانوی ارکان کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اس سمجھوتے سے قومی صحت سروس پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اورا س کو استثنیٰ نہیں دیا جاتا ہے تو وہ اس کے خلاف ووٹ دیں۔

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں قطر میں 2022ء میں ہونے والے فیفا عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ کے انعقاد کے سلسلے میں اسٹیڈیمز کی تعمیر کا کام کرنے والے نیپالی تارکین وطن سے ناروا سلوک کی شکایات سامنے آئی تھیں۔انھیں کام کے مقابلے میں کم اجرت دی جارہی ہے اور سخت حالات میں کام کے باوجود ان کے انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں قطر میں تارکین وطن کو درپیش مسائل کی تحقیقات کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں