.

ایران کے داعش مخالف اتحاد کے ''اخلاص'' پر شبہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کی بیخ کنی کے لیے امریکا کے زیر قیادت بننے والے نئے عالمی اتحاد کی سنجیدگی اور اخلاص کے بارے میں اپنے شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ویلز میں گذشتہ ہفتے نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد اعلان کردہ داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد سے متعلق غیریقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہ کی بیخ کنی کے لیے اس اتحاد کی سنجیدگی اور اخلاص کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں''۔

مرضیہ افخام نے یہ بیان امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے عراق اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے استیصال کے لیے جنگ کے اعلان کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ ہفتے امریکا پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ عراق اور شام میں داعش کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے۔

انھوں نے امریکا پر ماضی میں جہادیوں کی مدد کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے اعتدال پسند باغیوں کی مدد کرنے پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مرضیہ افخام نے وزیرخارجہ جواد ظریف کے اس الزام کی تائید کی ہے کہ بعض ممالک داعش کی مدد کررہے ہیں لیکن انھوں نے کسی خاص ملک کا نام نہیں لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اتحاد میں شامل بعض ممالک عراق اور شام میں دہشت گردوں کو مالیاتی اور سکیورٹی امداد مہیا کررہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ بعض ممالک کو یہ توقع ہے کہ ان دونوں ممالک میں ان کے مفادات کے مطابق سیاسی تبدیلی آجائے گی''۔ایران متعدد مرتبہ خلیجی ممالک پر جنگجوؤں کو مالی امداد مہیا کرنے کے الزامات عاید کرچکا ہے۔