.

محجب خواتین امیدواروں کے معاملے پر تیونس میں نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں جنوری 2011ء میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد ملک میں مذہبی اور سیکولر طبقات کے درمیان سخت نوعیت کی نظریاتی جنگ جاری رہے۔ ایک جانب ملک کے سیکولرحلقے خواتین کی مادر پدر آزادی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں اور دوسری جانب بعض سیاسی جماعتیں پارلیمانی انتخابات کے لیے باحجاب خواتین امیدواروں کو میدان سیاست میں لانے کے لیے کوشاں ‌ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونسی سماج میں پائی جانے والی اس تقسیم بالخصوص با پردہ خواتین کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے پر سیاسی، سماجی اور ابلاغی حلقوں میں تندو تیز بحث جاری ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا کا میدان بھلا کیسے خالی رہ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا بھی تنازع کو بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

لبرل اور روشن خیالی کا دعویٰ کرنے والے حلقوں کی جانب سے محجب خواتین کو پارلیمانی انتخابات میں بہ طور پر امیدوار شامل کرنے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ باپردہ عورتوں کو پارلیمانی انتخابات میں بطور پر امیدوار شامل کرنا تیونس کے اعتدال پسند تشخص کے بجائے دہشت گرد اور انتہا پسند تاثر کو ابھارنا ہے۔

اس کے برعکس مذہبی حلقوں کا خیال ہے کہ معاشرے میں تمام انسانوں کو بنیادی مساوی حقوق حاصل ہیں۔ حقوق نسواں کی تنظیمیں بھی بلا تفریق خواتین کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی حامی ہیں۔اس لیے اگر باپردہ خواتین کو پارلیمنٹ کا ممبر منتخب کیا جاتا ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں مذہبی رحجان رکھنے والی "استقلال پارٹی" نے پارلیمانی انتخابات کے لیے مکمل پردہ نشین خواتین کو بہ طور امیدوار لانے کا اعلان کیا تھا۔ استقلال پارٹی تحلیل شدہ تحفظ انقلاب لیگ اور اس سے وابستہ رہنے والے اسلام پسندوں کی جماعت سمجھی جاتی ہے۔

تیونس کی سرکردہ خاتون سیاست دان رجا بن سلامہ نے محجب خواتین کو پارلیمانی امیدواروں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا چاہیے کہ ملک کی منتخب پارلیمنٹ میں کس طرح کے چہروں کی ضرورت ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں نقاب پوش خواتین بیٹھیں ہوں‌گی تو دنیا میں کیا تاثر جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ ہم آزادی اظہار، لباس اور عقیدے کے آزادی کے قائل ہیں لیکن محجب خواتین کے بطور پارلیمانی انتخابی امیدوار کے ہمیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جو لوگ خواتین کے پردے کے قائل ہیں وہ خواتین کی آواز کے بھی پردے کے حامی ہیں۔ وہ چہرے کے پردے پر تو زور دیتے ہیں لیکن خواتین کو پارلیمنٹ میں لانے اور ان کی تقاریر پرانہیں کوئی اعتراض کیوں نہیں ہوتا؟۔

تیونس کی مذہبی جماعت "اصلاحات و ترقی" کے سیکرٹری جنرل محمد القومانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لباس کی وجہ سے شہریوں کے مابین تفریق کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پردہ لباس کی ایک شکل ہے اور کچھ لوگ اسے سیاسی رنگ دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں‌نے کہا کہ ملک کے آئین اور دستور میں کسی محجب اور باپردہ خاتون کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔