.

ترکی کا امریکی فوجی مشن کی میزبانی سے انکار

عراق اور شام پر فضائی حملوں کے لیے فوجی اڈے دینے سے معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کو عراق اور شام میں داعش پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین اور ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ اسلامی جنگجوؤں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں حصہ بھی نہیں لے گا۔

ترکی کے ایک سرکاری عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''ترکی کسی مسلح کارروائی میں حصہ نہیں لے گا بلکہ صرف انسانی امداد کی سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا''۔

یادرہے کہ ترکی نے سنہ 2003ء میں امریکا کی عراق پر چڑھائی کے وقت بھی اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے اور قریباً ساٹھ ہزار امریکی فوجیوں کی میزبانی سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی۔ترکی نے اس وقت بھی اپنے ہوائی اڈوں کو صدام حسین کی فوج پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

ترکی پر بعض ناقدین کی جانب سے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی تشکیل کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے اور اس پر شامی صدر بشارالاسد کے اسلام پسند مخالفین کی حمایت کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے لیکن وہ ان الزامات کو مسترد کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے اس کی حکمت عملی ناکامی سے دوچار نہیں ہوئی ہے بلکہ کامیاب رہی ہے۔

سخت گیر داعش کے جنگجوؤں نے عراق اور شام کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے اور دونوں ممالک کے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع بیشتر علاقے اب داعش کے کنٹرول میں ہیں۔ترکی کا کہنا ہے کہ وہ تو خود داعش کی چیرہ دستیوں کا شکار ہوچکا ہے اور اس کے انچاس شہری اس وقت داعش کے جنگجوؤں نے یرغمال بنا رکھے ہیں۔انھیں 11 جون کو عراق کے شمالی شہر موصل پر حملے کے دوران ترک قونصل خانے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ان میں ترک سفارت کار ،خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ترکی اپنے ان یرغمال شہریوں کو بچانے کے لیے داعش کے خلاف کوئی سخت موقف اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔مذکورہ ترک عہدے دار کا کہنا تھا کہ ''ان یرغمالیوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں''۔

تاہم اس عہدے دار کے بہ قول ''ترکی انسانی امدادی کارروائیوں کے لیے اپنی انچرلیک ائِربیس کو کھول سکتا ہے لیکن اس کو عراق اور شام میں مہلک فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔نیز ترکی کسی لڑاکا مشن میں حصہ لے گا اور نہ ہتھیار مہیا کرے گا''۔

واضح رہے کہ نیوپورٹ ،ویلز میں گذشتہ ہفتے منعقدہ نیٹو کے سربراہ اجلاس کے موقع پر داعش کے خلاف جنگ کے لیے جن دس ممالک نے ایک محدود عالمی اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا تھا ،ان میں ترکی واحد مسلم ملک تھا۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس وقت داعش کے خلاف جنگی کارروائیوں کو مربوط بنانے کے لیے خطے کے دورے پر ہیں۔انھوں نے جمعرات کو جدہ میں عرب وزرائے خارجہ سے اس ضمن میں مشاورت کی ہے اور وہ جمعہ کو مختصر دورے پر ترکی پہنچنے والے ہیں۔تاہم انقرہ میں امریکی سفارت خانے نے اس دورے کی تصدیق نہیں کی ہے۔