پہلی بار مردوں کے لیے'مانع حمل' گولیاں تیار

غیر قانونی حمل کی روک تھام میں انقلاب کی نوید؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

آبادی کا کثرت سے پھیلاؤ جدید دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے نت نئی نئی مانع حمل ادویات اور علاج کے طریقے بھی متعارف ہوتے رہتے ہیں۔ اب تک اس میدان میں تمام بوجھ خواتین ہی پر ڈالا جاتا رہا ہے اور جتنی بھی مانع حمل ادویات تیار کی گئی ہیں وہ صرف خواتین کے لیے تھیں لیکن انسانی تاریخ میں پہلی بار مرد حضرات کے لیے بھی 'مانع حمل' دوا تیار کی گئی ہے۔

جی ہاں! Vasalgel نامی یہ دوائی سنہ 2017ء تک مارکیٹ میں دستیاب ہو گی جس سے کے نتیجے میں آبادی کی روک تھام کے حوالے سے ایک نئے انقلاب کی توقع کی جا سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماہرین طب آج تک مانع حمل ادویات کی تیاری میں صرف خواتین کے لیے دوائیوں کے لیے مغز ماری کرتے رہے ہیں اور بہت کم کسی کی توجہ مردوں کے لیے ایسی دوا کی تیار کی جانب گیا ہے، یہی وجہ ہے کی پوری کوشش کے باوجود دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی غیر قانونی حمل کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اس ضمن میں امریکا جیسے بڑے ملک کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ماہرین کے مطابق غیر قانونی حمل کے 80 فی صد کیسز 19 سال سے کم افراد میں سامنے آتے ہیں۔

امریکا میں حکومت کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر میں‌ بھی کئی این جی اوز مانع حمل کے حوالے سے آگاہی میں دن رات مصروف عمل ہیں۔ مردوں کے لیے"کنڈومز" کے استعمال کا طریقہ غیر معروف نہیں رہا لیکن خواتین کے لیے مانع حمل گولیوں کی بھی مارکیٹ میں بھرمار ہے۔ تاہم ماہرین صحت ان ادویات کو کئی دوسری بیماریوں کا بھی موجب سمجھتے ہیں۔ مثلاً خواتین کے لیے بازار میں دستیاب مانع حمل گولیاں امراض قلب، بلند فشار خون، ڈیپریشن، متلی جیسے امراض کا باعث بن سکتی ہیں۔ رحم مادر میں رکھے جانے والے جرثوم کش مواد خود رحم کی شکست و ریخت کا باعث بنتے ہیں اور مانع حمل"Depo Provera ویکسین جو خواتین کو ہر تین ماہ بعد دی جاتی ہے ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بن سکتی ہے۔

دنیا بھر میں انسانی آبادی کے غیر قانونی پھیلاؤ کی روک تھام میں سرگرم اداروں کی جانب سے ممنوعہ نطفوں کے اخراج کے ہوش ربا اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں۔ گو کہ Vasalgel کی ایجاد سے غیر قانونی شرح پیدائش کی روک تھام میں انقلاب آ سکتا ہے مگر اس دوائی کے نتائج اس کے استعمال کے بعد ہی معلوم ہوں گے۔ اب تک مردوں ہی کو آبادی میں اضافے کا ذمہ دار سمجھا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ایک سیکنڈ میں 1500 مرد غیر قانونی طو رپر نطفے خارج کرتے ہیں۔ با الفاظ دیگر ایک سیکنڈ میں پندرہ سو خواتین غیر قانونی طور پر حاملہ ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق Vasalgel کو انجکشن کے طور پر مرد حضرات استعمال کر سکیں گے۔ یہ دوائی مخصوص مدت تک اپنے اثرات برقرار رکھے گی تاہم اس دوران اگر مرد چاہے تو اس کے مخالف ایک دوسری دوائی استعمال کرکے اپنے مادہ منویہ میں مانع حمل اثرات ختم کرا سکتا ہے۔ مردوں کے لیے مانع حمل کا ایک زیادہ پیچیدہ طریقہ سرجری کا بھی رہا ہے لیکن سرجری ذریعے مرد میں باپ بننے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے جبکہ نئی تیار کی جانے والی دوائی میں مرد جب چاہے مانع حمل اثرات کا توڑ کر سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں "پارسی گوس فاؤنڈیشن" نامی ایک غیر منافع بخش این جی او نے اس دوائی کا پہلی بار استعمال تین نر بندروں میں کیا اور انہیں 15 مادہ بندروں کے درمیان چھوڑ دیا گیا۔ دوائی کے استعمال کے چھ ماہ تک کوئی مادہ بندری حاملہ نہیں ہوئی۔

گو کہ یہ تجربہ تین سال پیشتر کیا گیا تھا تاہم اسے باضابطہ طور پر آئندہ سال ہی انسانی استعمال کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس دوائی کے منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں دستیاب بعض جعلی نوعیت کی سستی ادویات کی فروخت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ میڈیسن کمپنیوں کے درمیان اس دوائی کے حصول اور اس کی کم سے کم قیمت میں فروخت کا بھی مقابلہ شروع ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں