.

بدنام امریکی جنرل داعش مخالف آپریشن کا انچارج مقرر

جنرل ایلن پر خواتین سے 'نامناسب مراسلت' کا بھی الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام "داعش" کے خلاف آپریشن کی نگرانی فوج کے ایک تجربہ کار جنرل جون ایلن کے سپرد کی ہے۔ جنرل ایلن جہاں افغانستان اور عراق میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف مہمات میں اہم خدمات انجام دے چکے ہیں وہیں ان کا ماضی خواتین سے 'نامناسب مراسلت' کے حوالے سے بھی داغ دار سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں ‌نے افغانستان اور عراق میں القاعدہ کو شکست سے دوچار کیا تھا مگر خود ایک خاتون کے ساتھ مراسلت کے الزام کے بعد نوکری چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان میری ہاریو نے بتایا کہ وزیر خارجہ جون کیری نے داعش کے خلاف متوقع آپریشن کا انچارج جنرل ایلن کو مقرر کیا ہے۔ وہ وازارت خارجہ میں وزیر خارجہ ہی کے ماتحت کام بھی کرتے رہے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے عراق اور ایران سے متعلق وزارت خارجہ کے خصوصی مندوب اور سفارت کار بریٹ میک گورک کو جنرل ایلن کا نائب مقرر کیا ہے۔

جنرل ایلن کی داعش کے خلاف کارروائی میں بہ طور آپریشن چیف تقرری اچنھبے کی بات نہیں ہے کیونکہ جنرل ایلن ماضی میں افغانستان اور عراق میں دہشت گرد گروپوں سے کامیابی سے نمٹ چکے ہیں۔ سنہ 2011ء سے 2013ء کے دوران انہیں افغانستان میں سرگرم غیر ملکی اتحاد فوج "ایساف" کا سربراہ مقرر کیا گیا، تاہم ان پر ایک خاتون کے ساتھ نا مناسب انداز میں مراسلت اور خط کتابت کا الزام لگنے کے بعد جنرل ایلن کو ملک کو واپس لوٹنا اور ریٹائرمنٹ لینا پڑی تھی۔ ان کے خلاف امریکا کی ایک عدالت میں مقدمہ بھی چلایا گیا تاہم وہ جلد ہی اس مقدمہ میں بری ہو گئے تھے۔

افغانستان میں سنہ 2009ء میں اضافی طور پر تعینات کی گئی 33 ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی کا انتظام بھی جنرل ایلن ہی کی نگرانی میں کیا گیا۔ اس منصب سے قبل انہیں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امریکی فوج کے مختلف آپریشنز کا انچارج بھی مقرر کیا جا چکا ہے۔

عراق میں تعیناتی کے دوران جنرل ایلن نے سنہ 2006 اور 2008ء کے دوران اس وقت شہرت حاصل کی جب وہ سنی اکثریتی علاقوں کے قبائل کو القاعدہ کے خلاف کارروائی میں تعاون پر متحد کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں ‌نے عراق کے سنی قبائل کو القاعدہ کے خلاف لڑائی کے لیے ملیشیا تشکیل دینے پر آمادہ کر لیا تھا۔