.

ترکی داعش کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بننے سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داود اوگلو نے کہا ہے دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراق میں امریکی فضائی حملے ضروری ہیں لیکن صرف ان کی بدولت عراق میں سیاسی استحکام کے خواب دیکھنا درست نہیں۔

ایک مقامی ٹی وی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں ترک وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات کا جواز موجود ہے لیکن یہ عراق میں سیاسی استحکام کے لیے ناکافی ہیں۔

ترک وزیرِ اعظم نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری دارالحکومت انقرہ میں موجود ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف صدر اوباما کی اعلان کردہ حکمتِ عملی میں تعاون کے لیے ترک رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایک روز قبل مشرقِ وسطیٰ کے 10 عرب ملکوں نے بھی امریکی وزیرِ خارجہ کو شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکا کے ساتھ تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس میں ترکی کے وفد نے بھی شرکت کی تھی تاہم اطلاعات ہیں کہ ترک حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

ترک وزیرِاعظم نے اپنے انٹرویو سے قبل جان کیری سے ملاقات کی تھی تاہم دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ترکی پہلے ہی شام میں صدر بشار الاسد کےخلاف لڑنے والے باغیوں کا خطے میں اہم ترین اتحادی ہے اور انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

لیکن ترک حکومت امریکا کی قیادت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف شام یا عراق میں کسی قسم کی براہِ راست فوجی کارروائی کا حصہ بننے میں تامل کا شکار ہے۔

درایں اثنا مشرقِ وسطیٰ کے ایک اور ملک اور خطے میں امریکا کے اہم اتحادی اسرائیل نے بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام مہذب ملکوں کو اس قدامت پسند دہشت گردی کے مقابلے پر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے جو مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ مںی لے چکی ہے۔

اپنے ایک حالیہ بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ "اسلامی دہشت گردی" کے خلاف مشرقی وسطیٰ میں نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی عرب ممالک کو یہ احساس ہو چلا ہے کہ سنی شدت پسند بھی شیعہ شدت پسندوں جتنا ہی بڑا خطرہ ہیں۔

اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ دونوں شدت پسند ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو کمزور کرنے کے لیے کسی دوسرے کو مضبوط کرنا اور اس کی حمایت کرنا درست نہیں ہوگا۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ دنیا کے 40 ممالک دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکا کی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شامل ہو چکے ہیں۔