.

جیمز فولی کے خاندان کو دھمکایا نہیں تھا، وائٹ ہاوس

رہائی کے لیے درجنوں ممالک سے رابطہ کیا، کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ان اطلاعات اور تاثر کی تردید کی ہے کہ داعش کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے والے امریکی صحافی کے اہل خانہ کو امریکی انتظامیہ کی طرف سے دھمکیاں دی جاتی رہیں اور انتظامیہ نے جیمز فولے کی ہلاکت سے پہلے اس کی رہائی کے لیے کوششیں یا والدین کے ساتھ تعاون میں کوتاہی کی تھی۔

واضح رہے 40 سالہ جیمز فولی نامی امریکی صحافی کو شامی انتہا پسندوں نے 2012 میں اغواء کیا تھا اور اس کی رہائی کے بدلے میں تاوان بھی طلب کیا تھا، لیکن امریکی قانون کے مطابق تاوان ادا کرنا ممکن نہیں تھی، اس لیے داعش نے اسے 19 اگست 2014 کو گلا کاٹ کر ہلاک کر دیا۔

بعد ازاں اس خوفناک انداز میں کی گئی ہلاکت کی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی تھی۔ جیمز فولی جو کہ امریکی جنگوں کا افغانستان، عراق اور لیبیا میں ایک عینی شاہد بھی تھا شام میں انتہا پسندوں کے ہاتھ لگا تو اس کے والدین نے بڑی کوشش کی کہ ان کا بیٹا خانہ جنگی کی آگ میں تین سال سے جلنے والے ملک سے کسی معجزے کے سے انداز میں زندہ واپس آجائے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوا۔

داعش نے اس کا سر قلم کرنے کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ فولی کو عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے شروع کرنے کے جواب ہلاک کیا گیا ہے۔

جیمز فولی کی والدہ نے اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ''ہمیں صرف یہ کہہ دیا گیا تھا کہ ہم پر بھروسہ کریں، جیمز فولے کسی نہ کسی طرح رہا ہو جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔''

وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ایرنیسٹ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ انتظامیہ نے جیمز فولی کے والدین کے ساتھ تعاون میں کمی رکھی یا انہیں کسی قسم کی دھمکی دی تھی۔

ترجمان نے کہا ہے ''ہم فولے کے خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے تھے تاکہ انہیں فولی سے متعلق بہم ہونے والی تازہ ترین اطلاعات اور اغواکاروں کے رویے سے آگاہ رکھ سکیں، فولے کی رہائی اور بخیریت واپسی ہماری اولین ترجیح تھی۔''

دوسری جانب فولی کی والدہ کا کہنا ہے ''ہماری طرف سے فولی کی رہائی کے لیے کوششیں امریکی انتظامیہ کی ناگواری کا باعث بنتی رہیں، نیز یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ہمارے تذویراتی مفاد میں نہیں ہے۔''

وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق ''ایک طویل عرصے سے تاوان ادا نہ کرنے کے حوالے سے ہماری پالیسی جاری ہے، کیونکہ تاوان ادا کرنے سے دوسرے بہت سارے امریکیوں کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔"

ترجمان نے مزید کہا ''صدر اوباما نے فولی کی رہائی کے لیے ہر طریقہ آزمایا حتی کہ پر خطر فوجی طریقہ بھی بروئے کار لایا گیا۔"

اس بارے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی سامنے آنے والے ریمارکس پر رد عمل دیا ہے، ان کا کہنا ہے ''ہم نے اس سلسلے میں درجنوں ملکوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا گیا کہ فولے کی رہائی کے لیے وہ کچھ کر سکتے ہیں تو اپنا کردار ادا کریں، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔"

دفتر خارجہ کی ترجمان میری حارف نے اس حوالے سے کہا "جیمز فولی کے خاندان کی مدد کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ ہمارے قوانین تاوان ادا کرنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔"

دوسری جانب جیمز فولی کے بوڑھے والدین اپنے بیٹے کی وحشیانہ انداز میں موت کے بعد سخت دکھ اور کرب کے ماحول میں امریکی انتظامیہ کو کوتاہی کا مرتکب گردانتے ہیں۔ اس غم و غصے کا اظہار ان کی طرف سے میڈیا پر بھی کیا گیا ہے۔