صنعاء اور حوثی مظاہرین میں مذاکرات میں اہم پیش رفت

مذاکرات اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے ایک سفارتی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ یمن میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دارالحکومت صنعاء کا گھیراؤ کرنے والے اہل تشیع مسلک کے حوثی مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ایک فارمولے پر متفق ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔ حوثیوں اور حکومتی نمائندوں نے اگلے دو روز کے دوران اقوام متحدہ میں یمن کے خصوصی ایلچی جمال بن عمرو اور ان کے معاون خصوصی کی موجودگی میں بات چیت کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثی مظاہرین اور حکومت کے درمیان بات چیت پر اتفاق کے باوجود کئی معاملات میں ڈیڈ لاک بھی موجود ہے۔ ملک میں نئی حکومت کی تشکیل وزیر اعظم کے نام پر اتفاق، وزارتوں کی تقسیم، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سبسڈی کی بحالی، صنعاء میں خیمہ زن حوثیوں اور ان کے مسلح ساتھیوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن جیسے معاملات ہنوز حل طلب ہیں تاہم فریقین نے ان تمام امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی قبیلے نے تین ہفتے قبل حکومت کے خلاف بہ طور احتجاج دارالحکومت صنعاء کی طرف مارچ شروع کیا تھا۔ حوثیوں کی بڑی تعداد صنعاء میں دھرنا دیے ہوئے ہے۔ مظاہرین موجودہ حکومت کے استعفے اور مہنگائی کےخاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پچھلے چند روز کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی ہے تاہم وہ مظاہرین کے کیمپ اکھاڑنے میں ناکام رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں