.

فلپائن: اسلامی عسکریت پسندوں کی مانیٹرنگ سخت کر دی گئی

عالمی برادری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا، انٹیلی جنس حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن نے اسلامی عسکریت پسندوں کی تین سالہ شامی خانہ جنگی میں ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ تحقیقات دو فلپائینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد شروع کی گئی ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں فلپائینی عسکریت پسندوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ دونوں داعش سے وابستہ ہوگئے تھے۔

منیلا میں پولیس کے ایک ذمہ دار نے بتایا ہے کہ کہ اس سے پہلے ہی ان نوجوان مسلمانوں کی مانیٹرنگ کی جارہی جن کے بارے میں علم ہوا ہے کہ وہ عراق اور شام میں لڑنے والی داعش سے جا ملے ہیں، نیز ان کے بارے میں شبہ ہے کہ شام سے وطن واپسی پر دوسروں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔

واضح رہے فلپائن کو بھی اپنے ہاں عسکریت پسندوں سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں ابو سیاف گروپ زیدہ مشہور ہے جو فلپائن کے جنوبی علاقوں میں اغواکاری کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ ابو سیاف گروپ پر یرغمال بنائے گئے افراد کے گلے کاٹنے کے بھی الزامات ہیں۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے امریکی سپیشل فورس 2002 سے فلپائنی فورسز کو تربیت دینے میں مصروف ہے۔ دوسری جانب شام اور عراق میں ہزاروں عسکریت پسند دنیا بھر داعش سے جاملے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرار داد میں مطالبہ کر رکھا ہے کہ داعش کے لیے بھرتی کے امکانات کو ہر ملک اپنے ہاں روکے۔

فلپائنی حکام کے مطابق یہ پریشان کن اشارے ہیں جو بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ان حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ کہ اب ہم ان عسکریت پسندوں کے بارے میں مرتب شدہ اعدادو شمار بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شئیر کریں گے۔ '' حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ عسکریت پسند انڈو نیشیا ، ملائیشیا سے بھی آرہے ہیں جن کی وجہ سے فلپائن، تھائی لینڈ وغیرہ کے لیے خطرات ہیں۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کو دستیاب دستاویز کے مطابق فلپائنی باشندے ماہ مارچ میں شام میں ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ ماہ مئی میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایک سو کی تعداد میں فلپائینی شام کی طرف سفر گئے ہیں جنہوں وہاں تربیت حاصل کی اور شام کے مختلف حصوں میں تعینات ہیں۔