.

برطانوی یرغمالی کے خاندان کا داعش سے رابط

شام اور عراق میں برسرپیکار جنگجو گروپ نے کوئی جواب نہیں دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش کے ہاتھوں یرغمال برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز کے خاندان نے اغواکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں۔داعش نے اسی ماہ جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس برطانوی شہری کو قتل کرنے کی دھمکی رکھی ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''انتہا پسندوں نے ڈیوڈ ہینز کے خاندان کی جانب سے رابطے کی کسی کوشش کا جواب نہیں دیا ہے''۔ خاندان نے کہا ہے کہ ''ہم ڈیوڈ ہینز کے خاندان نے آپ کو متعدد پیغامات بھیجے تھے لیکن آپ کی جانب کوئی جواب موصول نہیں ہواہے ۔جن لوگوں نے ڈیوڈ کو یرغمال بنا رکھا ہے،وہ ہم سے رابطہ کریں''۔

اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والے چوالیس سالہ ڈیوڈ ہینز کو شام میں مارچ 2013 ء میں اغوا کر لیا گیا تھا۔داعش نے اسی ماہ امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف کا سرقلم کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی اور اس میں ڈیوڈ ہینز کو بھی دکھایا تھا جس میں انھوں نے اس کا سر قلم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

وہ شام میں اغوا سے قبل ایک بین الاقوامی خیراتی ادارے ایجنسی برائے فنی تعاون اور ترقی کے لیے کام کررہے تھے۔وہ اس سے پہلے بلقان ، افریقہ کے بعض ممالک اور مشرق وسطیٰ میں بھی کام کرچکے تھے۔

گذشتہ ہفتے اس ایجنسی نے ایک بیان میں اپنے امدادی رضاکار کو داعش کی جانب سے قتل کرنے کی دھمکی دینے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا تھا اور اس کی شدید مذمت کی تھی۔اس نے کہا تھا کہ ایک شخص کو انسانی کاز کے لیے کام پر جان کی دھمکی نہیں دی جانی چاہیے۔