.

"داعش پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے"

امریکی صدر اوباما کی خاتون سیاسی مشیر کا "العربیہ" کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کی خاتون سیاسی مشیر لیزا مونیکو نے"العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلز کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام"داعش" نہ صرف عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ یہ گروپ عرب ممالک کے لیے بھی سیکیورٹی ریسک ہے۔ انہوں ‌نے کہا کہ امریکی انتظامیہ شام کی لڑائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عراق اور شام کے سنی قبائل اور شامی اپوزیشن کو عرب ممالک کی نگرانی میں تربیت کرنے کا خواہاں ہے۔

داعش کےخلاف کارروائی کے سوال پر مسز مونیکو نے کہا کہ وزیر خارجہ جان کیری جدہ میں عرب اتحادیوں سے صلاح مشورہ کیے ہیں تاکہ داعش کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی اتحاد قائم کیا جا سکے۔ میں بھی گذشتہ ہفتے اردن اور سعودی عرب کے دورے پر اسی مقصد کے لیے گئی تھی۔

"عراق میں کارروائی کی طرز پر شام میں بھی داعش کو شکست دینے کے لیے ہم فوجی اور انسانی امداد فراہم کر سکتے ہیں۔ داعش کی سرکوبی کے لیے انٹیلی جنس تعاون بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ عرب ممالک کو داعش کے خطرے کا بہ خوبی اندازہ ہے کیونکہ یہ گروپ اب عالمی سلامتی اور عرب ممالک کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے۔"

شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج کو تربیت کی فراہمی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر کی مشیر نے کہا کہ شامی باغیوں کو جنگی تربیت اور اسلحہ کی فراہمی کی تجویز موسم گرما میں سامنے آئی تھی۔ صدر براک اوباما نے کانگریس سے شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج کے لیے عسکری معاونت کی درخواست کی تھی۔ شامی باغیوں کو امریکی وزارت دفاع کی نگرانی میں جنگی تربیت کی فراہمی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس پر شامی اپوزیشن قوتوں کو بھی اتفاق ہے، لیکن یہ کام ہم خطے میں موجود اپنے اتحادیوں بالخصوص سعودی عرب کے مشورے کے بعد ہی کریں گے۔ سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر شامی باغیوں کو جنگی تربیت فراہم کرنے کی اجازت دینے کا اشارہ دیا ہے۔

مسز مونیکو سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا ملک شامی باغیوں کو بھاری ہتھیار فراہم کرے گا تو ان کا جواب تھا کہ شامی اپوزیشن کی معتدل قوتوں کو ایک جانب داعش جیسے دہشت گردوں کا سامنا ہے اور دوسری جانب اسدی فوج سے مقابلہ ہے۔ امریکا نے یہ طے نہیں کیا کہ شامی باغیوں کو کس نوعیت کا اسلحہ فراہم کیا جائے گا؟ اب تک ہم نے میدان جنگ میں شامی اپوزیشن کو مشاورت کی سہولت فراہم کی ہے۔ میرے خیال میں شام میں تین کام زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اول داعش سے خالی ہونے والے علاقوں پر جیش الحر کا کنٹرول، داعش کے خلاف شام کے اندر سے بھرپور کارروائی اور مخصوص یونٹوں کے قیام سے شام میں جاری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا جیسے امور شامل ہیں۔

داعش کے خلاف کارروائی کے لیے عرب ممالک سے دفاعی امداد سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی خاتون عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ جان کیری سعودی عرب، خلیجی ممالک اور ترک حکام سے اس ضمن میں بات کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں داعش کے خلاف کارروائی کے لیے ہمارے سامنے کئی آپشنز ہیں لیکن یہ جنگ ہمیں مل کر ہی لڑنی ہے۔

عراق میں حیدر العبادی کی قیادت میں بنائی گئی نئی حکومت اور امریکی تعاون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عراق کی موجودہ حکومت ملک کے تمام طبقات کی نمائندہ ہے۔ امریکا پہلے دن سے العبادی کی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکی فوج نے عراقی فورسز اور کرد فوجیوں کے مشترکہ تعاون سے داعش کی پیش قدمی روکی ہے۔ عراقی فورسز کو داعش سے نمٹنے کے لیے 475 عسکری ماہرین بھجوائے جا رہے ہیں۔

ترکی کی جانب سے اپنی سرحدیں جہادیوں کے لیے بند کرنے کے سوال پر امریکی صدر کی مشیرہ کا کہنا تھا کہ ترکی ہمارا اہم اتحادی ہے۔ داعش کے خلاف کارروائی سے قبل ترک حکومت سے بھی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ جان کیری ترک حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ترک حکومت کے اہم عہدیداروں سے میری بھی ملاقاتیں رہی ہیں۔ انقرہ بھی داعش کےخلاف فوجی کارروائی میں سنجیدہ ہے اور تعاون کے لیے تیار ہے۔