داعش کےخلاف جنگ، امریکا آگ سے کھیل رہا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران نے شامی حکومت کی اجازت کے بغیر ملک میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے خلاف حملوں کے اعلان کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا داعش کے خلاف آپریشن کی آڑ میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شمخانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "امریکا انسداد دہشت گردی" کی آڑ میں ایک آزاد ملک کی خود مختاری میں مداخلت کر رہا ہے۔ اس سے قبل امریکا کئی دوسرے ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میں حملے کر چکا ہے اور اب شام میں بھی اس نے اس غیر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔"

خیال رہے کہ ایرانی عہدیدار کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف امریکا خلیجی ممالک اور یورپ کے ساتھ مل کر عراق اور شام میں دولت اسلامی کے ٹھکانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

علی شمخانی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکیوں کا ایک بہانہ ہے جس کی آڑ میں وہ دوسرے ملکوں کی خود مختاری کو چیلنج کرتے ہیں۔ امریکا اب شام میں غیر قانونی مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت داعش جیسے عسکریت پسند گروپ کے خلاف شام میں داخل نہیں‌ ہو رہی بلکہ اس مداخلت کا مقصد شامی اپوزیشن کے عسکری گروپوں کی مدد کرکے بشارالاسد کی آئینی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کرنا ہے۔

درایں اثناء ایرانی مجلس شوریٰ کے چیئرمین علی لاریجانی نے بھی شام میں امریکی مداخلت پر سخت انتباہ کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی"ایسنا" کے مطابق علی لاریجانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کے خلاف نام نہاد جنگ کی آڑ میں شام میں مداخلت خطے میں آگ بھڑکانے کے مترادف ہے۔ امریکا آگ سے کھیلنا بند کرے۔ امریکی فوج کا اصل ہدف داعش نہیں بلکہ شامی حکومت ہے جسے کمزور کرنے کے لیے جنگ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

مسٹر لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکا کو یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ وہ جس ملک پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے پہلے ہی ایک سنگین بحران سے گذر رہا ہے۔ ایسے میں شام پر حملہ کرنا جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ شام پر حملہ کیا گیا تو حالات امریکا کے قابو سے باہر ہو جائیں گے اور بعد کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عاید ہو گی۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار باغیوں کی مدد کے لیے یورپ، سعودی عرب، قطر، ترکی اور امریکا کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ دولت اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ جیسے گروپ بشار الاسد مخالف قوتوں کی پیداوار ہیں اور یہ ممالک ان تنظیموں کو اسلحہ اور دیگر جنگی سامان بھی مہیا کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں