داعش کے خلاف حکمت عملی، جان کیری فرانس پہنچ گئے

دس سے زائد عرب ممالک نے مکمل حمایت کا یقین دلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام اور عراق میں داعش کے خلاف وسیع تر عالمی اتحاد کی تشکیل کے لیے مشرق وسطی کے متعدد ممالک میں بات چیت کے بعد فرانس پہنچ گئے ہیں۔

ان کے اس دورے کامقصد داعش کے خلاف زیادہ سے زیادہ تحرک پیدا کرنا اور امریکی صدر اوباما کے داعش پر حملے کے منصوبے کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔

پیرس کے لیے روانہ ہونے سے پہلے جان کیری نے مصر کا بھی دورہ کیا اور کہا "داعش کے خلاف مصر کا کردار کلیدی اہمیت کا ہو گا۔"

جان کیری کا مزید کہنا تھا مصر داعش کے خلاف فضائی کارروائی میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہو گا، خصوصا جب سیناء میں جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی تو مصر کی افادیت اور بڑھ جائے گی۔"

واضح رہے اوباما کی طرف سے داعش کے خلاف دو اطراف سے کارروائی کے اعلان کے ساتھ ہی جان کیری غیر ملکی دورے پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ جان کیری اب تک چالیس ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان میں عرب ممالک بھی شامل ہیں۔

داعش اب تک عراق کے بڑے حصے پر قابض ہوچکی ہے اور شام و عراق پر مشتمل اسلامی مملکت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس سے نمٹنے کے لیے اب تک چالیس ملکی اتحاد وجود میں اچکا ہے۔ البتہ امریکا نے ایران کو شام کے بارے میں ایرانی موقف کے سبب اتحاد میں شامل نہیں کیا ہے۔

کیری کو اب تک دس عرب ملکوں نے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلا دیا ہے۔ ان میں مصر، عراق، اردن، قطر، لبنان، سعودی عرب اور خلیجی کی دوسری چھ ریاستیں شامل ہیں۔

فرانس میں پیر کے روز اسی سلسلے میں 20 ملکوں کے سفارتکار جمع ہو رہے ہیں۔ اس کے فوری بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس متوقع ہے جبکہ اسی ماہ کے اواخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

ان سارے اجلاسوں میں عراق اور شام میں داعش کے ابھرتے ہوئے چیلنج کو بنیادی اہمیت حاصل ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں