داعش کے خلاف چالیس ملکوں کا اتحاد

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پوری دنیا چھوٹے دہشت گرد گروپوں میں سے ایک یعنی داعش کے خلاف جنگ میں مدد دینے کو تیار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ تنظیم ایسی ہے کہ اس کے خلاف چالیس ملکوں کا وسیع البنیاد اتحاد وجود میں آئے؟ میرے خیال میں داعش بجائے خود ایسی پوزیشن نہیں رکھتی لیکن زمین پر موجود چند طاقتیں ایسی ہیں جو امریکا کو اس کے شکار پر ابھار رہی ہیں۔ ایسی طاقت داعش کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بالعموم جنگ کا تقاضا یہ ہو گا کہ سو ملکوں کا اتحاد ہو جو دہشت گردی مکمل طور پر گھیرے میں لے کر دنیا کو اس سے نجات دلا دے۔

داعش کے ساتھ شام میں النصرہ فرنٹ اور احرار الشام، مالی میں بوکو حرام، لیبیا میں انصار الشرعیہ، یمن میں القاعدہ، مصر کے جزیرہ نما سیناء میں دیگر انتہا پسند گروپوں اور ابو سیاف گروپ کا فلپائن میں خاتمہ ضروری ہے۔ دنیا ان گروپوں کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کی دعویدار ہو سکتی ہے، اس مقصد کے لیے اسے مسلمانوں کی بھی ہر جگہ کی حمایت ملے گی کیونکہ داعش کی طرف سے کیے گئے جرائم کی وجہ سے مسلم دنیا میں دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں غم و غصہ کو بڑھاوا ملا ہے۔ ان گروپوں کے بارے میں اس سے پہلے مسلم دنیا میں ایسا غصہ دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ ماضی میں القاعدہ اس بنیاد پر مسلمانوں میں رائے عامہ کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہی تھی کہ وہ اسرائیل کے خلاف ہے اور مطلوم مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ لیکن داعش نے مسلم رائے عامہ کو اپنے خلاف متحرک کر لیا ہے۔ مسلم رائے عامہ مسلمانوں کے خلاف داعش کے جرائم کے گراف سے حیران ہے۔

داعش کے خلاف عالمی برادری کو عرب اور اسلامی دنیا میں داعش کے خلاف پائی جانے والی مفاہمت کا فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ عرب اور اسلامی ملک بھی داعش کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ یہ ماحول صرف عراق اور شام میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں ہر جگہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معاون ہو سکتا ہے۔ داعش کے خلاف اتحاد کو وسعت دینے کا یہ موقع اگلے دس برسوں کے لیے دہشت گرد گروپوں کے خلاف عالمی برادری کے لیے حکمت عملی وضع کرنے میں بھی مدد گار رہے گا۔

اسلامی دولت عراق وشام ہی واحد ہدف نہیں ہے بلکہ ہماری دنیا میں لیبیا کی انصار الشرعیہ، مصر کی التوحید والجہاد اور اس قسم کی دوسری تنظیموں کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ان سب کا تعاقب اور محاصرہ قانونی طریقے سے اور ان کی مالیاتی و عسکری امداد کے راستے بند کرنے سے ہونی چاہیے۔ نیز ان کے خاتمے کے لیے وسائل فراہم کیے جانے چاہییں۔

ماضی میں ہم اسے القاعدہ کا نام دیتے تھے لیکن آج اس نوعیت کی تنظیمیں مختلف ناموں سے سرگرم ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ داعش القاعدہ کے علاوہ کچھ کوئی نہیں ہے۔ یہی معاملہ النصرہ فرنٹ کا ہے۔ اگر دنیا دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ پوری تنظیم کا محاصرہ کیا جائے نہ کہ اس کی ایک شاخ کا، جیسا کہ داعش کا کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا کے اتحاد کو صرف داعش تک محدود کر دینے سےایک محدود ہدف ہی حاصل ہو گا۔ یہ صرف دنیا کے ایک برے گروپ کے خلاف کامیابی ہو گی۔ لیکن بعد ازاں یہ معاملہ دوباہ سر اٹھائے گا۔ اس کی مثال اس طرح سمجھی جا سکتی ہے کہ جب مغربی ملکوں کے شہریوں کے گلے مالی یا نائیجیریا میں کاٹے جائیں گے تو عالمی برادری کا باقی رہ جانے والے درجنوں دوسرے دہشت گرد گروپوں کے بارے میں کیا خیال ہو گا؟

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں