''انٹرپول قطر چھوڑنے والے اخوانیوں کو گرفتار کرے''

مصری پراسیکیوٹر کی اخوان کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو پکڑنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے چیف پراسیکیوٹر نے پیرس میں قائم بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ قطر چھوڑ کر کہیں اور جانے والے اخوان المسلمون کے رہ نماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرے کیونکہ ان کے خلاف ملک میں فوجداری مقدمات زیر تفتیش ہیں۔

مصر نے قبل ازیں بھی جولائی 2013ء میں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد انٹرپول سے اخوان المسلمون کے ارکان کو گرفتار کرنے کی درخواست کی تھی۔مصری روزنامے الاہرام کے انگریزی پورٹل کی اطلاع کے مطابق پراسیکیوٹر ہشام برکات نے قطر اور ترکی سے راہ فرار اختیار کرنے والے اخوان المسلمون کے ارکان کے خلاف انٹرپول کے ریڈ نوٹسز کی تجدید کا مطالبہ کیا ہے۔

پان عرب روزنامے الشرق الاوسط نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اخوان المسلمون سے وابستہ انتیس شخصیات قطر سے کہیں اور جارہی ہیں اور ان میں معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کے دفتر کے ایک سابق ذمے دار اعصام طلیمہ بھی شامل ہیں۔

اخوان المسلمون کے مؤید علامہ وجدی غنیم نے بھی ہفتے کے روز قطر سے کہیں اور چلے جانے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے یوٹیوب پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ''میں نے قطر میں اپنے بھائیوں کو کسی قسم کی سُبکی سے بچانے کے لیے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا ہے''۔

بعض مصری اخبارات نے اپنی ہفتے کی اشاعت میں بتایا تھا کہ قطری حکومت نے اخوان المسلمون کے سات سینیر عہدے داروں کو ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی کے ایک رہ نما عمرو دراج نے اپنے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ''اخوان کے متعدد ارکان قطر سے کہیں اور منتقل ہورہے ہیں تاکہ اس ملک کو کسی قسم کی سُبکی سے بچایا جاسکے''۔

مصر اور قطر کے درمیان تعلقات میں گذشتہ سال جولائی میں سابق آرمی چیف عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔اس دوران جماعت کے بہت سے ارکان نے ملک سے بھاگ کر قطر میں پناہ لے لی تھی۔مصر ماضی میں قطر سے انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اخوان المسلمون کے سینیر عہدے داروں کو پناہ دینے پر قطر کے دوسری خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور سعودی عرب ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے دوحہ میں متعین اپنے اپنے سفیروں کو مارچ میں واپس بلا لیا تھا۔اس سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کردیا تھا اورمصر نے بھی اس قدیم مذہبی و سیاسی جماعت کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں