امریکا سے مسلم خواتین کی داعش کے لیے بھرتی

ایف بی آئی کی اچانک لاپتا ہونے والی صومالی خواتین سے متعلق تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں امریکی خواتین کی شمولیت کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہروں منی پولس اور سینٹ پال میں مقیم تین صومالی خاندانوں کی رشتے دار خواتین گذشتہ چھے ہفتوں سے لاپتا ہیں اور ان کے بارے میں شُبے ہے کہ وہ ممکنہ طور پر شام پہنچ کر داعش میں شمولیت اختیار کرچکی ہیں۔علاقے سے تعلق رکھنے والے صومالی کمیونٹی کے لیڈر عبدالرزاق بحئی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ان خواتین کے لاپتا ہونے کی وجوہ ابھی غیر واضح ہیں اور میں نے ان کے خاندانوں سے کہا ہے کہ وہ پولیس سے رجوع کریں''۔

سینٹ پال سے ہی تعلق رکھنے والی ایک انیس سالہ صومالی نژاد امریکی دوشیزہ 25 اگست کو گھر سے غائب ہوگئی تھی۔وہ پہلے ترکی پہنچی تھی اور پھر وہاں سے شام چلی گئی تھی جہاں اس نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

منی سوٹا کے مذکورہ علاقے میں امریکا میں صومالیہ کی سب سے بڑی کمیونٹی آباد ہے۔اسی علاقے سے 2007ء میں صومالیہ کے سخت گیر جنگجو گروپ الشباب کے لیے نوجوانوں کی بھرتی کی گئی تھی۔

امریکا کے قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں منی سوٹا کی صومالی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پندرہ بیس افراد کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ شام میں انتہا پسند گروپوں میں شامل ہوکر صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔ان میں ایک نومسلم ڈوگلس میک آرتھر مکین بھی شامل تھا جو اسی موسم گرما میں لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے منی پولس میں ڈویژن کونسل گریگ بوسالیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس علاقے میں انتہا پسند اسلام پسندوں کی جانب سے دوسری خواتین اور مردوں کو جہادی گروپوں کے لیے بھرتی کے الزام کی تحقیقات کررہے ہیں لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل بتانے سے انکار کیا ہے۔

صومالی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ اگر خواتین جہادیوں کی بھرتی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایک نیا رجحان ہوسکتا ہے۔سینٹ پال سے تعلق رکھنے والی مذکورہ دوشیزہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کو داعش نے امریکا میں اسلام کے ہمدردوں کے ذریعے بھرتی کیا تھا اور ایک اور عورت نے اس کے امریکا سے فرار میں مدد دی تھی۔

کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی ایک اور انیس سالہ دوشیزہ نے عدالت میں اسی ہفتے قصوروار ہونے کا اقرار کیا ہے۔اس کو ڈینور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے مشرق وسطیٰ کے سفر پر روانہ ہونے کی کوششش کے دوران اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے پاس یک طرفہ ٹکٹ تھا اور اس کو شام سے تعلق رکھنے والے ایک جہادی نے آن لائن بھرتی کیا تھا۔

امریکی خواتین کی شام جا کر لڑنے کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر براک اوباما داعش کی بیخ کنی کے لیے ایک وسیع تر بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ داعش کو شکست دی جائے گی اور اس کے جنگجوؤں کا القاعدہ کے ارکان کی طرح پیچھا کیا جائے گا۔

صدراوباما نے گذشتہ جمعرات کو اپنی نشری تقریر میں مقامی فورسز کی تربیت اور ان کے جنگی مشنوں کی منصوبہ بندی میں مدد دینے کے لیے مزید پونے پانچ سو امریکی فوجی عراق بھیجنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وہاں ماہر کے طور پر آنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ایک ہزار چھے سو ہوجائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں