.

اخوان کے سربراہ کو تیسری بار عمر قید کی سزا

فوجی عدالت نے صرف ایک منٹ کیس کی سماعت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت جماعت کے 14 دیگر اہم رہنماؤں کو تیسرے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ انہیں اب تک تین بار عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجیزہ گورنری کی فوج داری عدالت کے چیف جسٹس محمود سامی کامل نے 'بحر الاعظم' نامی ایک مقدمہ کی صرف ایک منٹ سماعت کی اور اس ایک منٹ کے دوران انہوں نے اخوان المسلمون کے مرشد عام، محمد البلتاجی، صفوت حجازی اور عصام العریان سمیت 14 اہم رہ نماؤں کو عمر قید کی سزا کا حکم دیا۔

قبل ازیں انہی ملزمان کو وادی نطرون فرار کیس میں ایک دوسری عدالت میں بھی پیش کیا گیا، جس کے بعد الجیزہ میں پولیس سیکرٹریٹ میں ہونے والے مقدمہ کی سماعت میں انہیں جج سامی کامل کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ڈاکٹر محمد بدیع نے صرف اتنا کہا کہ عدالت ان سے امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ انہوں‌نے کئی ماہ سے اپنے کسی وکیل سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔ اس کے بعد جج نے کیس کی سماعت ختم کرتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنا دی۔ قبل ازیں عدالت کی جانب سے گواہوں کو بھی طلب کیا گیا تھا ہم اس موقع پر کوئی گواہ بھی موجود نہیں تھا۔

خیال رہے کہ مصری پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے اخوان المسلمون کی قیادت پر حکومت پر جبری قبضے برقرار رکھنے کے لیے بڑا عوامی اجتماع، حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران شہریوں کے قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہی الزامات کے تحت ان پر مقدمات بھی چل رہے ہیں۔

مرشد عام کو اس سے قبل دو دوسرے مقدمات میں بھی عمر قید کی سزا ہو چکی ہے۔ ان دونوں پچھلے مقدمات میں ملزمان کو اپیل کا حق نہیں دیا گیا تاہم گذشتہ روز سنائے گئے فیصلے میں ملزمان سزا کےخلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

اخوان المسلمون کی جانب سے قائم کی گئی دفاع کونسل کے رکن محمد الدماطی کا کہنا ہے کہ وہ الجیزہ کی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا کو کسی دوسرے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالت نے جلد بازی میں فیصلہ دیا ہے اور مدعا علیہم کو بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔