.

لیبیا: اسلامی ملیشیا کے ٹھکانوں پر حفتر فورس کی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ‌اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرم جنرل حفتر کی وفادار فورسز نے ملک کے مغرب میں حکومت مخالف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں‌ پر بمباری کی ہے جس کےنتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنرل حفتر فورسز نے طرابلس سے جنوب مغرب میں 120 کلومیٹر کی مسافت پر الغریان ملیشیا کے عسکریت پسندوں کے اسلحہ کے ایک ڈپو پر شیلنگ کی جس کے نتیجے میں اسلحہ کا ذخیرہ تباہ اور کم سے کم 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لیبیا کے"النباء" ٹی وی نے زخمیوں کی تعداد گیارہ بتائی ہے۔

خیال رہے کہ الغریان ملیشیا دارالحکومت طرابلس پر اگست کے آخر میں قبضہ کرنے والے گروپ "فجر لیبیا" کی ایک ذیلی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ فجر لیبیا نے گذشتہ ماہ طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قابض الزنتان ملیشیا کو خونریز لڑائی کے بعد مار بھگایا تھا۔ فجر لیبیا کی جانب سے طرابلس ہوائی اڈے اور اہم عمارتوں پر قبضے کے بعد جنرل حفتر کی وفادار فورسز کئی بار اس تنظیم کے مراکز پر حملے کر چکی ہیں۔

طرابلس پر فجر لیبیا کے قبضے کے بعد حکومت کو تمام سرکاری دفاتر اور پارلیمنٹ کو ملک کے شمالی شہر طبرق منتقل کرنا پڑا تھا۔ طبرق شہر طرابلس سے 1600 کلو میٹر دور ہے۔

جنرل خفتر کے ایک مقرب فوجی افسر صقر الجاروشی نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ سوموار کے روز ان کی فورسز نے الغاریان ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جس میں تنظیم کے متعدد جنگجو ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل حفتر اور شدت پسند تنظیم انصار الشریعہ کے درمیان گذشتہ جولائی میں اس وقت لڑائی شروع ہوئی تھی جب الشریعہ نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بنغازی کے فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا تھا۔