.

پیرس کانفرنس:داعش کے خلاف عراقی حکومت کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مجتمع ہونے والے دنیا کے تیس سے زیادہ ممالک کے لیڈروں نے عراق کی حکومت کی سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف جنگ میں حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس کو فوجی امداد سمیت ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

عراق کی سلامتی سے متعلق اس کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے شرکاء نے عراق کی نئی حکومت کو داعش کے خلاف جنگ میں عراقی حکام کی بیان کردہ ضروریات کے مطابق فوجی امداد سمیت تمام ضروری وسائل مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق:''وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آج (سوموار کو) کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔خاص طور پراقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ان کی پاسداری کی جائے''۔کانفرنس میں شریک بعض ممالک نے امریکا کے زیر قیادت داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے علاوہ عراق میں فوجی بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے کہا ہے کہ کانفرنس کے بہت سے شرکاء نے داعش کو بیرون ملک سے ملنے والی رقوم کو منقطع کرنے کی بات کی ہے اور اس موضوع پر بحرین بہت جلد ایک بین لاقوامی کانفرنس بلائے گا۔

انھوں نے کانفرنس کے اختتام پر ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''گلے کاٹنے والے داعش نے پوری دنیا کو یہ بتادیا ہے کہ آپ یا تو ہمارے ساتھ ہو یا پھر ہم آپ کو قتل کردیں گے ،جب کسی کا اس طرح کے گروپ سے سامنا ہوگا تو پھر اس کے سامنے اپنے تحفظ کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا ہے''۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے داعش کی سفاکیت کا توڑ کرنے کے لیے یہ بین الاقوامی کانفرنس طلب کی تھی۔انھوں نے قبل ازیں اس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ ایک عالمی خطرہ ہے اور اس کا ردعمل بھی عالمی ہونا چاہیے''۔اس موقع پر ان کے عراقی ہم منصب فواد معصوم نے دنیا کے ممالک پر زوردیا کہ وہ عراقی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔

پیرس کانفرنس کو عراق کے نئے وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت پر بین الاقوامی اعتماد کی مظہر قرار دیا گیا ہے اور اس میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے بھی اپنے ملک کی جانب سے عراق کے مخصوص علاقوں میں امن وامان کے قیام کے لیے کارروائیوں میں حصہ بٹانے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے داعش کے خلاف عراق اور شام میں کارروائی کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام اور ایک وسیع تر حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔اب پیرس کانفرنس میں مختلف ممالک کی جانب سے حمایت کے اظہار کے بعد امریکا کو عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لیے سفارتی محاذ پر کوئی زیادہ مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بعض ممالک امریکا سے عراق اور شام میں داعش کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل اقوام متحدہ کی منظوری کا مطالبہ کررہے تھے۔روس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شام کے علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری غیر قانونی ہوگی۔شامی صدر بشارالاسد کی حکومت قبل ازیں اپنی سرزمین پر امریکا کے مجوزہ فضائی حملوں کی مخالفت میں بیان دے چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کو ملکی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

ترکی اور بعض دوسرے ممالک بھی شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح صدر بشارالاسد ایک مرتبہ پھر مضبوط ہوجائیں گے۔فرانس نے عراق میں تو فضائی حملوں میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن وہ بھی شام میں کارروائی کے حوالے سے تردد کا شکار ہے۔

شامی صدر کے پشتی بان ایران نے پیرس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ عرب ممالک نے ایران کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔اس لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی غرض سے اس پر عرب ممالک کو ترجیح دی گئی ہے۔اس دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف تعاون کے لیے امریکا کی درخواست کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ''وہ اب ان دونوں ممالک میں بھی وہی کچھ کرنا چاہتا ہے جو وہ پہلے پاکستان میں کررہا ہے اور وہاں کسی اجازت کے بغیر ہر کہیں بم دھماکے ہورہے ہیں''۔