.

یوکرین کو اسرائیلی اسلحے کی فروخت بند

صہیونی ریاست کا روس کی ناراضی کے خدشے کے پیش نظر اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے روس کی ناراضی کے پیش نظر یوکرین کو طے شدہ سودے کے مطابق بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سمیت اسلحے کی فروخت روک دی ہے۔

اسرائیل کے ٹی وی چینل ٹو کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے ایک وفد نے ڈرونز سمیت بھاری فوجی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے صہیونی ریاست کا دورہ کیا تھا اور وہ ان ہتھیاروں کو روس نواز علاحدگی پسندوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے خریداری کررہے تھے۔

تاہم اس چینل نے یہ نہیں بتایا کہ یوکرینی وفد نے کب دورہ کیا تھا اور اس کی درخواست کب مسترد کردی گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے ائیروناٹکس کمپنی کے تیار کردہ ڈرونز کو یوکرین کو فروخت کرنے کی منظوری دی تھی لیکن بعد میں وزارت خارجہ نے اس سودے کو ویٹو کردیا تھا۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق صہیونی وزارت خارجہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ یوکرین کو اسلحے کی فروخت سے روس ناراض ہوسکتا ہے اور وہ اس کے ردعمل میں شام اور ایران کو مزید ہتھیار فروخت کرسکتا ہے۔صہیونی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرینی حکومت اور روس نواز علاحدگی پسندوں کے درمیان 5 ستمبر سے جنگ بندی جاری ہے لیکن سوموار کو فریقین کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔یوکرین کے روسی زبان بولنے والے مشرقی علاقوں میں اپریل سےجاری لڑائی رکوانے کے لیے جنگ بندی کے اس معاہدے کی روس اور یوپ کی تنظیم برائے سلامتی نے بھی بطور ثالث حمایت کی تھی۔