امریکا کا عراق میں داعش کےخلاف زمینی کارروائی پر غور

1600 عسکری مشیروں کی عراق روانگی کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمبسی نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر براک اوباما سے درخواست کی ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے فوج داخل کرنے کی اجازت فراہم کریں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں جنرل مارٹن کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں عالمی اتحاد دہشت گردوں کا تعاقب کرنے اور انہیں انجام سے دوچار کرنے کا بہترین راستہ ہے۔ اگر اتحادی افواج فضائی حملوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں، امریکا اور دوسرے ممالک کی سلامتی کے لیے داعش کا خطرہ برقرار رہا تو ہمیں اپنی فوج عراق میں داخل کر دینی چاہیے"۔

خیال رہے کہ امریکی فوج اور صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے خیالات میں داعش کے خلاف جنگ کے معاملے میں تضاد پایا جا رہا ہے۔ صدر براک اوباما اور ان کی حکومت کے اہم وزراء تکرار اور اصرار کے ساتھ کہتے چلے آئے ہیں کہ وہ عراق میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو فضائی حملوں تک محدود رکھیں گے اور زمینی کارروائی کے لیے عراق میں فوج داخل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم خود امریکی فوج کا نقطہ نظر اس سے مختلف ہے، جس کا اظہار آرمی چیف کے اس تازہ بیان سے بھی ہوتا ہے۔

جنرل مارٹن ڈیمبسی نے عراق میں فوج داخل کرنے کی تجویز پر مبنی بیان جاری کرنے سے قبل وزیر دفاع چیک ہیگل کے ہمراہ ایوان نمائندگان کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس کو داعش کے خطرات اور اس کے خلاف آپریشن کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔ایوان نمائندگان کی سیکیورٹی کمیٹی کا ایک اجلاس دوبارہ ہو گا جس مین وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر برائے قومی سلامتی جی جونسین بھی بریفنگ دیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کانگریس کو جہاں‌ داعش کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کی اجازت پر قائل کرنے کے لیے کوشاں ہے وہیں اوباما انتظامیہ شامی باغیوں کی نمائندہ عسکری قوتوں کو تربیت اور فوری طور پر 50 کروڑ ڈالر کی نقد امداد کی فراہمی کے لیے بھی بات کر رہی ہے۔

اسی بات کا اظہار امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایک سال میں اعتدال پسند شامی باغی گروپوں کے پانچ ہزار اہلکاروں کو عسکری تربیت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم سعودی عرب کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ سعودی عرب نے بھی شامی باغیوں کی تربیت اور مالی مدد کا ایک پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے"۔

شامی باغیوں کو جنگی تربیت کی فراہمی کے حوالے سے امریکی اپوزیشن نے بھی اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ کانگرنس میں ری پبلیکن رُکن جان مکین کا کہنا ہے کہ "میں نے صدر اوباما کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اعتدال پسند شامی باغیوں کی زیادہ سے زیادہ عسکری معاونت فراہم کریں اور انہیں جنگی تربیت دیں، تاہم صدر نے سیاسی وجوہات کی بناء پر میری تجویز کو کوئی اہمیت نہیں دی"۔ جان مکین نے ایک سال میں صرف پانچ ہزار شامی باغیوں ‌کو جنگی تربیت دینے کے امریکی منصوبے پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ ایک طرف داعش کے 31 ہزار جنگجو شام اور عراق میں بر سر جنگ ہیں اور کیا محض پانچ ہزار شامی باغیوں کو تربیت دے کر شامی بحران کو ختم کیا جا سکتا ہے؟۔ خیال رہے کہ داعش کے جنگجوؤں کی یہ تعداد امریکی 'سی آئی اے' کی جانب سے بتائی گئی ہے۔

گذشتہ روز امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل نے بتایا کہ عراق کی سیکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے امریکا کے 1600 عسکری مشیر جلد بغداد روانہ کیا جا رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پانچ ہزار شامی فوجیوں کی تربیت صرف آغاز ہے۔ انہوں ‌نے کہا کہ داعش کے خلاف کارروائی کی قیادت امریکا خود کرے گا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل مارٹن ڈیمبسی نے کہا کہ داعش کےخلاف شام اور عراق میں فضائی حملے محض ڈراوے اور خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں ہوں ‌گے بلکہ داعش کے ٹھکانوں ‌پر بار بار حملے کر کے نہیں بتاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج داعش کا مقابلہ نہ کیا گیا تو کل اس کے جنگجو کویت میں داخل ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں