آسٹریلیا میں پولیس چھاپے، 15 مشتبہ عسکریت پسند گرفتار

سڈنی کی تاریخ کا سب سے بڑا پولیس چھاپہ، 800 اہلکاروں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ داعش کی طرف سے قتل و غارتگری اور تباہی کے منصوبے کو حساس اداروں نے ناکام بنا دیا ہے۔ اس منصوبے کے بارے میں علم ہونے پر حساس اور سکیورٹی سے متعلق اداروں نے سڈنی میں چھاپے مار کر 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے آسٹریلیا میں ایک پرتشدد حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے بتایا انہیں بدھ کی رات آپریشن کے بارے میں حساس اداروں نے بریف کیا ہے، اس آپریش کی بنیاد وہ اطلاعات بنی ہیں جو داعش کے مشرق وسطی میں موجود قائد نے قتل و غارتگری کرنے کے حوالے سے دی تھیں۔

وزیر اعظم کے مطابق ایک آسٹریلین شہری کے بارے میں یہ بھی ایسے اشارے سامنے آئے ہیں کہ وہ داعش میں اہم عہدے دار ہے۔ ٹونی ایبٹ نے یہ بات آسٹریلیا میں القاعدہ کے گروپ کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹرز کو بتائی۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر کسی آسٹریلین شہری کا نام نہیں لیا۔

دریں اثناء پولیس نے سڈنی میں ایک نائٹ کلب کے سابق باونسر 33 سالہ محمد علی بریالے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ اس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ آسٹریلیا میں داعش کا سب سے سینئیر رکن ہے۔

بدھ کے روز یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آٹھ سو پولیس اہلکاروں نے ایک درجن سے زائد جگہوں پر چھاپہ مارا ہے۔ آسٹریلیا کی تاریخ میں اس پولیس چھاپے کو سب سے بڑا چھاپہ بتایا گیا ہے۔ آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے ڈپٹی کمشنر اینڈریو کول ون کے مطابق آسٹریلیا کے مشرقی شہروں برزبن اور لوگان میں بھی چھاپے مارے گئے ہیں جو اس کے علاوہ ہیں۔

ادھر سڈنی میں جمعرات کے روز زیر حراست لیے گئے مشتبہ افراد میں سے ایک 22 سالہ عمر جان آزاری کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر مائیکل آل نٹ کے مطابق وہ ایک سنگین الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے منصوبے کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا تھا۔

الزام کے مطابق آزاری، محمد علی بریالے کے ساتھ مل کر مئی اور ستمبر کے دوران ایک بڑی دہشت گردانہ کارروائی کرنے کے منصوبے کا حصہ تھا۔ لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

عدالت میں پیشی کے وقت آزاری نے ضمانت کے لیے کوئی درخواست نہیں دی ہے۔ اب اسے 13 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے پولیس کے متعدد شہروں میں ان چھاپوں سے محض ایک دن پہلے ملک میں امکانی دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا۔

پچھلے ہفتے آسٹریلین پولیس نے برزبن سے ایسے دو افرد کو گرفتار کیا تھا جن پر شبہ تھا کہ وہ شام میں عسکری کا حصہ بننے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ شبہ ہے کہ یہ دونوں النصرہ فرنٹ میں شامل ہونے کے لیے جانا چاہتے تھے۔

آسٹریلین حکومت کے ایک تخمینے کے مطابق ایک سو کے قریب آسٹریلین شہری ملک کے اندر سرگرمی سے عسکریت پسندوں کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ جبکہ 60 کی تعداد میں آسٹریلین النصرہ فرنٹ اور داعش میں شامل ہو کر شام میں لڑ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں