بنغازی میں ‌مسلح جنگجووں کی بنکوں میں لوٹ مار

لیبیا کے بندرگاہی شہر میں تازہ جھڑپیں، نو افراد ہلاک ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا میں شورش کے شکار اہم بندرگاہی شہر بنغازی میں القاعدہ نواز گروپ انصار الشریعہ کے حامی جنگجوؤں ‌نے بنکوں اور مالیاتی ادارں پر یلغار کر کے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے۔

بنغازی سے "العربیہ" کو اپنے ذرائع سے خبر ملی ہے کہ مسلح افراد نے شہر میں کئی بنکوں پر حملے کیے اور عملے کو یرغمال بنا کر بنکوں سے رقوم لوٹنے کے بعد فرار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ روز دارالحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں ورشفانہ کے مقام پر ورشفانہ فوجی بریگیڈ کے اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ فریقین نے دونوں طرف سے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر متمرکز "الفجر لیبیا" نامی گروپ نے ورشفانہ کے جنوب مشرقی علاقوں میں بھاری توپخانے سے گولہ باری کی۔ فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں‌ پر تازہ بمباری جنرل نیشنل کانگریس کے ایک اہم رکن محمد الگیلانی کی شدت پسندوں کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی۔

طرابلس کے فوجی ذرائع نے بتایا کہ رشفانہ بریگیڈ کے اہلکاروں‌ نے جنرل نیشنل کانگریس [پارلیمنٹ] کے رکن محمد احمد الھادی الگیلانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ الگیلانی فوج کے مغربی بریگیڈ کے نمایاں کمانڈروں میں سے ایک تھے جنہیں رواں ہفتے منگل کو عسکریت پسندوں نے رشفانہ میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ادھر ورشفانہ سٹی کونسل اور شہر کی مجلس شوریٰ نے 'فجر لیبیا' کے زیر تسلط علاقوں میں مسلسل بگڑتی امن وامان کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے مٶثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عسکریت پسندوں اور جنرل خلیفہ خفتر کے حامی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں نہ تھمیں تو ملک سنگین بحران کا شکار ہو جائے گا۔

کونسل نے ورشفانہ شہر اور اس کے مضافات کو آفت زدہ علاقہ قرار دے فوری انسانی امداد کی فراہمی اور معصوم شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے اور مسلح گروپوں کے چنگل میں ‌پھنسے لیبی شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے فوری اور مٶثر حکمت عملی وضع کرے۔

خیال رہے کہ بنغازی اور طرابلس شہروں میں حالیہ چند ہفتوں سے سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ان دونوں بڑے شہروں میں عملاً عسکریت پسندں کا کنٹرول ہے اور حکومتی عمل داری کا کوئی نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کے اہم دفاتر اور پارلیمنٹ طرابلس سے سیکڑوں میل دور طبرق کے مقام پر منتقل کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد عسکریت پسند دندناتے پھر رہے ہیں۔

دونوں شہروں میں ریٹائرڈ جنرل خلیفہ خفتر کے حامیوں اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان مسلسل خون ریز جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بنغازی میں دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں