کوسوو میں کریک ڈاؤن، آئمہ مساجد سمیت 15 گرفتار

گرفتاریاں جہادیوں کو شام اور عراق سفر سے روکنے کے لیے کی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوب مشرقی یورپی ملک کوسوو کی پولیس نے'جہاد' کی طرف مائل مسلمان نوجوانوں کو شام اور عراق میں جاری جنگ میں شمولیت سے روکنے کے لیے مساجد کے نو آئمہ سمیت کم سے کم 15 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

کوسوو پولیس کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے"رائیٹرز" کو بتایا کہ حکام نے نو آئمہ مساجد سمیت کم سے کم پندرہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے تمام افراد ریاستی دستور کی مخالفت کرتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی پر اکسا رہے تھے۔

کوسوو میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ پچھلے ماہ گیارہ اگست کو پولیس نے شام اور عراق کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں 40 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز گرفتار کیے گئے اہم افراد میں دارالحکومت پرسٹینا کی جامع مسجد الکبیر کے امام و خطیب اور ایک اسلام پسند سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔

قبل ازیں کوسوو پولیس کے ترجمان باقی گیلانی نے فرقہ واریت کو ہوا دینے کے الزام میں آئمہ مساجد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مساجد کے آئمہ اور بعض دووسرے افراد کو پکڑا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کوسوو کی 18 ملین آبادی کی اکثریت مسلمانوں ‌پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر مسلمان البانوی نسل کے ہیں جو سیکولر طرز زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے کوسوو میں آئمہ کی اندھا دھند گرفتاریوں سے مذہب سے لگاؤ رکھنے والے شہریوں میں غم وغصہ کی فضاء پیدا ہو رہی ہے۔ آئمہ کے خلاف کریک ڈاؤن کی جو فوٹیج سامنے آئی ہے اس میں پولیس اہلکاروں کو چہروں پر ماسک چڑھائے دکھایا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے ایسا اپنی شناخت چھپانے کے لیے کیا ہے تاکہ وہ اسلام پسندوں کے انتقام کا نشانہ نہ بن سکیں۔

کوسوو سے عراق اور شام میں جنگ میں شہریوں کی شمولیت ایک حقیقت بھی ہے۔ کوسوو کے انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے اپنے ملک کے 200 کے لگ بھگ شہریوں کی عراق اور شام میں جاری لڑائی میں شمولیت کی تصدیق کی گئی ہے۔ شام میں مختلف کارروائیوں کے دوران پچھلے سال کوسووو کے 20 جنگجو مارے گئے تھے۔

کوسوو پر پڑوسی ملک سربیا کا طویل عرصے تک قبضہ رہا ہے لیکن وہاں کے مسلمانوں کی مسلح جدوجہد اور معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم "نیٹو" کے حملوں کے بعد سنہ 2008ء میں سرب فوج کوسووو سے نکلنے پر مجبور ہو گئی تھی، جس کے بعد کوسوو کو ایک آزادی ریاست کا درجہ دے دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں