.

شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی منظوری

داعش کے خلاف لڑائی میں برّی فوج نہیں بھیجیں گے: صدر اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغیوں کی تربیت اور انھیں اسلحہ مہیا کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی فورسز کا دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں کوئی زمینی جنگی مشن ہے اور نہ ہوگا۔

ایوان نمائندگان میں 273 ارکان نے شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے سے متعلق قرارداد کی حمایت کی ہے اور ایک سو چھپن نے اس کی مخالف کی ہے۔رائے شماری کے وقت اس کے حق میں ووٹ دینے والوں میں حکمران ڈیموکریٹک پارٹی اور حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی دونوں کے ارکان شامل تھے۔اب سینیٹ میں اس پر آج جمعرات کو رائے شماری ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ سینیٹ کے ارکان اس کی منظوری دے دیں گے۔اس کے تحت شامی باغیوں کو منظم کیا جائے گا ،انھیں تربیت دی جائے گی اور اسلحہ مہیا کیا جائے گا۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی ایک محتاط حکمت عملی کے تحت داعش کا خاتمہ کیا جائے گا۔تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان جنگجوؤں کے خلاف مہم کے دوران امریکی فوجی عراق نہیں بھیجے جائیں گے۔

صدر اوباما نے ٹامپا فلوریڈا میں امریکی سنٹرل کمان میں تقریر میں داعش کو مخاطب کرتے کہا کہ ''ہم بالآخر آپ کو پکڑ لیں گے''۔انھوں نے بتایا کہ چالیس سے زیادہ ممالک نے امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف جنگ میں مدد وتعاون کی پیش کش کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ فرانس اور برطانیہ کے طیارے پہلے ہی عراق کی فضاؤں میں اڑرہے ہیں۔ان کے علاوہ کینیڈا اور آسٹریلیا نے عراق میں اپنے فوجی مشیر بھیجنے کی ہامی بھری ہے۔سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر اعتدال پسند شامی باغیوں کی تربیت کے لیے ایک امریکی مشن کو اڈے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔جرمنی تربیتی مشن میں حصہ لینے کے لیے اپنے چھاتا برداروں کو بھیج رہا ہے۔

انھوں نے داعش کے خلاف لڑائی کے لیے امریکا کے زمینی دستے بھیجنے کے امکان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عراق میں تعینات امریکی فورسز لڑاکا مشن میں حصہ نہیں لیں گی۔صدر اوباما نے یہ تقریر امریکا کی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل لائیڈ آسٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد کی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ''داعش کے جنگجوؤں کو شکست دی جانی چاہیے''۔وہ اسلامی تعلیمات کا بھی مضحکہ اڑا رہے ہیں۔انھوں نے صدراوباما کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی کے لیے امریکا کی بری فوج نہیں بھیجی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ داعش کی شکست کی صورت میں اس لڑاکا مشن کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔