.

جامعہ الازھر کی از سر نو تعمیر، سعودی تعاون کی پیشکش

سعودی عرب کے محکمہ سراغرسانی کے سربراہ دورہ مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزآل سعود نے مصر کی عظیم الشان تاریخی دینی درس گاہ جامعہ الازھر کی از سر نو تعمیر و مرمت کے لیے خصوصی تعاون کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب مصری حکومت اور جامعہ الازھر کی جانب سے شاہ عبداللہ کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سعودی حکومت اور عوام کی جانب سے مصری عوام سے جذبہ محبت کو سراہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کی تعمیر و مرمت کا ریاض کی جانب سے خصوصی تعاون کا اعلان سعودی عرب کے جنرل انٹیلی جنس چیف شہزادہ خالد بن بندر بن عبدالعزیز نے اپنے دورہ قاہرہ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین جامعہ الازھر کی نئے خطوط پر تعمیر و مرمت کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس پروگرام میں مصری حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

سعودی انٹیلی جنس چیف نے گذشتہ روز اپنے دورہ مصر کے دوران صدر ریٹائرڈ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی۔

بعد ازاں انہوں نے جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب سے ملاقات میں بھی سعودی فرمانروا کی پیشکش کا ذکر کیا۔ انہوں نے شاہ عبداللہ کی جانب سے جامعہ الازھر کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری کے اجرا پر ڈاکٹر الطیب اور دیگر علما کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر شیخ الازھر نے کہا کہ شاہ عبداللہ کی بہبود انسانیت اور عالم اسلام میں فلاحی سرگرمیوں کے اعتراف میں جاری کردہ ڈگری خود جامعہ الازھر کے لیے باعث اعزاز ہے۔ شاہ عبداللہ کی عالم اسلام کے لیے خدمات بہت عظیم ہیں اور ڈاکٹریٹ کی کوئی اعزازی ڈگری اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ہے۔

شیخ الاھز نے شاہ عبداللہ کی جانب سے جامعہ الازھر کی تعمیر و مرمت میں مدد فراہم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کی مصری قوم کے لیے خدمات لازوال ہیں۔

خیال رہے کہ مصر کی جامعہ الازھر عالم اسلام کی سب سے قدیم جامعات میں سے ایک ہے۔ اس کی بنیاد ایک ہزار 60 سال قبل رکھی گئی تھی۔ مختلف ادوار میں اس کی تعمیرو توسیع اور مرمت کا کام بھی ہوتا رہا ہے۔ سعودی عرب نے جامعہ الازھر کی جدید خطوط پر تعمیر کا بیڑا اٹھانے کا قابل تحسین فیصلہ کیا ہے۔