.

داعش مخالف جنگ، سرحدوں کی بندش ضروری: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو جنگ میں شکست دینے کے لیے اس کے زیرقبضہ علاقوں کی سرحدوں کی بندش ضروری ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کے ساتھ جمعہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔جان کیری نے کہا کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں سے اہم ضمانتیں حاصل کر لی ہیں۔ان میں سرحدوں پر غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد روکنے ،انھیں تربیت ،امداد اور مالی وسائل مہیا کرنے سے متعلق ضمانتیں شامل ہیں۔

جان کیری نے کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کی داعش کے خلاف جنگ میں کردار کو سرا ہا اور کہا کہ بغداد اور عراق میں دوسروں کو مجموعی طور پر البیش المرکہ کا موصل ڈیم کا کنٹرول واپس لینے پر شکر گزار ہونا چاہیے اور انھوں نے ہی داعش کی کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کی جانب پیش قدمی بھی روک دی تھی۔

ایران اور داعش

داعش کے خلاف جنگ میں ایران کے ممکنہ تعاون کے حوالے جان کیری نے کہا کہ اس ضمن میں وہ اپنے لیے جس کردار کا بھی انتخاب کرتا ہے،اس کا خیر مقدم کیا جائے گا اور امریکا اس کے ساتھ ابلاغ کے لیے بھی تیار ہے۔

جان کیری نے اوباما انتظامیہ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ''شام میں گذشتہ ساڑھے تین سال سے جاری خانہ جنگی کا حل فوجی کے بجائے سیاسی ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں شام میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،اس کا کوئی ایسا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا جس سے اقلیتوں سمیت تمام کے مفادات کا تحفظ ہوسکے''۔

فرانسیسی حملے

امریکی وزیرخارجہ کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں نشر ہوا ہے جب فرانس کے جنگی طیاروں نے شمالی عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں داعش کے زیراستعمال فوجی تنصیب تباہ ہوگئی ہے۔

فرانسیسی طیارے نے جمعہ کی صبح داعش کے زیر استعمال عراقی فوج کی ایک تنصیب پر چار لیزر گائیڈڈ بم برسائے ہیں۔اس سے اسلحے کا ایک ڈپو اورایندھن کا ایک ڈپو تباہ ہوگیا ہے۔

ادھر شام کے شمالی صوبے حلب سے ہزاروں کرد سرحد عبور کرکے ترکی کی جانب جارہے ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ دو روز میں کرد آبادی والے ساٹھ دیہات پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد کرد لیڈروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ داعش کے جنگجو کردعوام کا قتل عام کرسکتے ہیں۔جنگجوؤں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ایک کرد قصبے عین العرب کا بھی محاصرہ کررکھا ہے۔