.

"جامعہ الازھر" کے تعارف پر مبنی کتاب کی اشاعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں کم و بیش ایک ہزار سال پرانی اور مسلم دنیا میں دینی واسلامی علوم کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ الازھر نہ صرف اپنی علمی وجاہت اور قد کاٹھ میں ممتاز مقام رکھتی ہے بلکہ اس کی تعمیر میں بھی مسلمانوں کے قدیم فن تعمیر کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

حال ہی میں مصر میں جامعہ الازھر کی تاریخی اہمیت اور اس کے تعارف کے حوالے سے ایک کتاب شائع کی گئی ہے۔‘‘جامع الازھر الشریف’’ کے عنوان سے شائع کی گئی کتاب میں جامعہ کے ایک ہزار سالہ علمی دور اور اس کی تعمیر میں مسلمانوں کے فن تعمیر کی مہارتوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب میں لکھا ہے کہ آج کی دنیا کی سب سے معتبر دینی درسگاہ دراصل ایک ہزار سال پیشتر محض ایک جامع مسجد تھی، جسے جامع مسجد الازھر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ مسجد ایک دینی مدرسے اور وہاں سے آگے بڑھتے ہوئے ایک بڑی دینی درسگاہ بن چکی ہے اور آج اس کا شمار دنیائے اسلام کی ان معدودے چند درسگاہوں میں ہوتا ہے جو حصول علم دین کے متلاشیوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

جامع مسجد الاھز کی تعمیر بھی مسلمان معماروں کی فنکاری کا شاہکار ہے۔ جامع مسجد کا ڈیزائن کافی حد تک تیونس کی دو مشہور مساجد القیروان شہر کی جامع مسجد عقبہ بن نافع اور دارالحکومت تیونسیہ کی جامع مسجد الزیتونہ سے مماثلت رکھتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ تیونسی مساجد کی معمار تیونسی اور جامع الازھر کے معمار مصری تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 786 صفحات پر محیط کتاب اسکندریہ لائبریری اور جامع الازھر کی مشترکہ تعاون کا اور تحقیقی کاوشوں کا ثمر ہے جس کے مواد کی فراہمی محمد السید، شیما السائع، نگرانی کا خالد عزب، نظرثانی کا کمال الدین اور اندرونی ڈیزائننگ کا سہرا ھبۃ اللہ حجازی اور وجہیان ابو الجا کے سر ہے۔

شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب کے الفاظ میں ‘‘یہ کتاب مسلمانوں کے عروج و زوال کے ادوار میں جامعہ الازھر کے مسلسل علمی سفر کے حوالے سے ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے’’۔

کتاب میں جامع مسجد الازھر کی بنیاد سے آج تک کے سفر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صقلیہ سے تعلق رکھنے والے ایک فاطمی مسلمان گورنر المعزالدین اللہ الفاطمی کے حکم پر سنہ 970 میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور مسجد کی تعمیر قریبا 28 ماہ میں پایہ تکمیل کو پہنچی تھی۔

مصنف کا کہنا ہے کہ شروع دن سے جامع مسجد ‘‘الازھر’’ کے نام سے مشہور نہیں تھی بلکہ پہلے اس کا نام جامع مسجد القاہرہ رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے فاطمی حکمرانوں نے دختر رسول سیدہ فاطمہ الزھرا کی نسبت سے اس کا نام جامع مسجد الزھرا اور پھر الازھر رکھا گیا۔

قاہرہ کے وسط میں واقع 11 ہزار 500 مربع میٹر رقبے پر پھیلی یہ درسگاہ اہل سنت والجماعت مسلک کی عالم اسلام میں علامت اور پہچان سمجھی جاتی ہے۔ اب یہ صرف ایک دینی درسگاہ ہی نہیں بلکہ ملکی سیاست کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔