.

حوثیوں کا احتجاج باغیانہ سازش ہے، یمنی صدر کا الزام

دارلحکومت صنعاء میں جھڑپیں اور مذاکرات سلسلہ ایک ساتھ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور الھادی نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعاء میں دھرنا دینے والے شیعہ مسلک کے حوثی شدت پسند حکومت کا تختہ الٹنے اور مرضی کا انقلاب برپا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں کسی مخصوص گروپ کو اپنے عزائم کی تکمیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صنعاء میں "العربیہ" کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ مطابق اقوام متحدہ میں ‌یمن کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے کہا ہے کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی مظاہرین اور حکومت کے درمیان بات چیت آخری مرحلے میں ‌ہے اور وہ فریقین کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی اس معاہدے پر دستخط کر لیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے مندوب نے صنعاء میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چالیس ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت اور حوثیوں سمیت تمام قومی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ گروہی مفادات کے بجائے قومی مفادات کا خیال رکھیں اور مفاہمت کی طرف لوٹیں۔

ادھر یمن میں ‌متعین خلیجی ممالک کے سفیروں نے صدر عبد ربہ منصور الھادی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صدر نے کہا کہ سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملہ ملک میں ایک نئے انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ صدر ھادی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر کے ساتھ مل کر انہوں نے بحران سے نکلنے کی پرامن کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت، قومی وحدت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم جو راستہ حوثیوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اختیار کیا ہے، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

یمنی ایوان صدر کے ایک ذریعے نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ فریقین کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت حوثی اپنا دھرنا ختم کر دیں گے اور حکومت ان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گی، نیز نئی حکومت کی تشکیل پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کی فریقین کے درمیان طے پائے معاہدے میں صنعاء میں جھڑپوں کا فوری خاتمہ، حوثی نمائندوں پر مشتمل قومی حکومت کا اڑتالیس گھنٹوں میں قیام، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت تین ہزار ریال فی بیرل مقرر کرنے، صنعاء میں‌ جگہ جگہ جاری دھرنے ختم کرنے، مظاہرین کے قتل کی جوڈیشل انکوائری، سرکاری ٹی وی اور دیگر دفاتر پرحملوں کی تحقیقات، جیسے اہم امور شامل ہیں۔

سرکاری ٹی وی میں آتشزدگی

صعناء میں مقامی ذرائع اور سرکاری ٹی وی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہفتے کے روز ٹی وی کے ہیڈکواٹرز میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں دفتر کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ واقعہ ٹی وی پر حوثی شدت پسندوں کے ماٹر گولوں کے حملے کے تین روز بعد پیش آیا ہے۔آتش زدگی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کے دفتر سے آگ کے شعلے اور دھواں بلند ہوتے دیکھےہیں۔

ادھر صنعاء میں گذشتہ روز بھی پولیس اور حوثی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستو جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے علاوہ حریف قبیلے الاحمر کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں شمالی صنعاء کی جانب سے فضائی سروس بھی بدستور معطل ہے۔ گوکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صنعاء میں علاقائی اور بین الاقوامی پروازوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تاہم مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صنعاء کے ہوائی اڈےسے پروازوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔