.

صنعا:باغیوں کی چڑھائی، وزیراعظم مستعفی

شیعہ حوثیوں کا یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز اور ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیراعظم محمد سالم باسندوہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد حکومت کے ہیڈکوارٹرز سمیت اہم چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق یمنی وزیراعظم نے حوثی باغیوں کے صنعا میں سرکاری ہیڈ کوارٹرز پر قبضے کی اطلاعات کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دارالحکومت میں فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک ہفتے کی رات سے بھاری گولہ باری جاری تھی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے سنی جنگجوؤں اور فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد سرکاری ریڈیو اسٹیشن پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔حوثی باغیوں کے ایک ترجمان محمد عبدالسلام نے اپنے فیس بُک صفحے پر جاری کردہ بیان میں حکومتی کمپلیکس پر قبضے اور وزیراعظم محمد سالم باسندوہ کے استعفے کی تصدیق کی ہے۔

اے ایف پی نے سینیر عہدے داروں کے حوالے سے کہا ہے کہ مستعفی وزیراعظم نے صدر عبد ربہ منصور ہادی پر مطلق العنان حکمران ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔تاہم باسندوہ نے صدر کے نام خط میں لکھا ہے کہ ''میں نے قومی اتحاد کی حکومت سے ازخود مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انصاراللہ (حوثیوں )کے سربراہ اور بھائی عبد ربہ منصور ہادی کے درمیان سمجھوتے کی راہ ہموار ہوسکے''۔

مزاحمت نہ کی جائے

درایں اثناء یمنی وزیرداخلہ عبدہ حسین الترب نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں سکیورٹی سروسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شیعہ باغیوں کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کریں۔

انھوں نے صنعا میں سکیورٹی ،استحکام اور سرکاری املاک کو نقصان سے بچانے کے لیے باغیوں کے ساتھ تعاون پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ انصاراللہ کو پولیس کا دوست خیال کیا جائے۔

یمن میں متعین اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جمال بن عمر نے قبل ازیں حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی کے ساتھ دوروز تک مذاکرات کے بعد بتایا تھا کہ متحارب فریقوں کے درمیان تشدد کے خاتمے کے لیے سمجھوتا طے پاگیا ہے لیکن اس سمجھوتے کے باوجود باغیوں نے آرمرڈ ڈویژن کے کیمپ پر گولہ باری جاری رکھی تھی۔ایک حوثی باغی کا کہنا ہے کہ انھوں نے جامعہ الایمان کے نزدیک بھاری گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے اور فوجی وہاں سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

یمن کی اعلیٰ سکیورٹی کمیٹی نے ہفتے کے روز حوثی باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان گذشتہ چار روز سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد دارالحکومت کے چار علاقوں میں رات نو بجے سے صبح دس بجے تک کرفیو نافذ کردیا تھا اور باغیوں کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دھاوے کے بعد اسکولوں کو بند کردیا تھا۔

دارالحکومت میں اس کشیدگی کے باوجود یمنی صدر عبد ربہ نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سمجھوتے کی حمایت کی تھی اور حوثی باغیوں نے اس سمجھوتے پر دستخط کے لیے اتوار کو اپنا نمائندہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

یمنی حکام کے مطابق گذشہ چار روز سے صنعا کے نواحی علاقے شاملان اور دوسرے حصوں میں سکیورٹی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں جس کے بعد ہزاروں افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حوثیوں نے اہلِ سنت کے زیرانتظام ''جامعہ الایمان'' کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

حوثیوں نے حالیہ مہینوں کے دوران صنعا کے شمال میں واقع بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے اپنے مخالفین اہل سنت یا سرکاری فورسز کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد نکال باہر کیا ہے۔

باغیوں نے صنعا شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر خیمے نصب کر رکھے ہیں اوراس شاہراہ کو سیمنٹ کے بلاک لگا کر بند کردیا ہے۔انھوں نے بجلی اور ٹیلی مواصلات کی وزارتوں کی جانب جانے والے راستے کو بھی بند کررکھا ہے۔

شیعہ زیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے حوثی باغی حکومت پر بدعنوانیوں کے الزامات عاید کر رہے ہیں ،اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے صدر عبد ربہ ہادی منصور کی جانب سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کی پیش کش اور ایندھن پر دیے جانے والے زرِ تلافی کی بحالی کے فیصلے کو بھی مسترد کردیا ہے۔