.

ملیشیائیں داعش مخالف جنگ لڑیں: عبادی

وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی نامزدگی کے معاملے پر کوئی تعطل نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے مقامی ملیشیاؤں کو سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ نئے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی نامزدگی کے معاملے پر کوئی تعطل پایا جاتا ہے۔

حیدرالعبادی نے اتوار کو العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراقی فوج مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر شمال مغربی صوبے نینویٰ کو دولت اسلامی عراق وشام سے آزاد نہیں کرا سکے گی۔اسی لیے انھوں نے مقامی ملیشیاؤں کو داعش کے خلاف عالمی مہم سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ داعش نے نینویٰ اور صوبہ صلاح الدین پر جون سے قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔

انھوں نے اپنی کابینہ کی تشکیل میں تاخیر اور نئے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے انتخاب میں اختلافات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اختلافات کوئی اتنے زیادہ اہم نہیں ہیں۔ انھوں نے ان دونوں وزارتوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب میں تاخیر کو جمہوری عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی پارلیمان نے گذشتہ ہفتے وزیراعظم حیدر العبادی کے نامزد کردہ وزیر دفاع جابرالجابری اور وزیر داخلہ ریاض الغریب کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا تھا اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مدت میں توسیع کر دی تھی۔ ان دونوں وزراء کے ناموں پر شیعہ وزیراعظم کے اتحادیوں نے اعتراضات کیے تھے۔