.

ترکوں کی بازیابی،صدر ایردوآن کچھ کہنے سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کی حکومت عراق کے شمالی شہر موصل سے دولت اسلامی (داعش) کے زیرحراست انچاس یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کیے گئے خفیہ آپریشن کی تفصیل منظر عام پر نہیں لائے گی۔

چھیالیس ترک شہری اور تین عراقی تین ماہ سے زیادہ عرصے تک داعش کے زیر حراست رہنے کے بعد ہفتے کے روز عراق سے ترکی لوٹے ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے 10 جون کو موصل پر قبضے کے بعد ان افراد کو ترک قونصل خانے سے یرغمال بنا لیا تھا۔

رجب طیب ایردوآن نے عراق سے رہا ہوکر واپس آنے والے بعض افراد اور ان کے خاندانوں کے ایک گروپ سے اتوار کو ملاقات کی ہے اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں،ان پر ہم بات نہیں کرسکتے ۔ریاست کو چلانا ایک گراسری اسٹور کو چلانے کی طرح نہیں ہے۔ہمیں حساس ایشوز کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔اگر آپ وہاں نہ ہوتے تو پھر قیمت بھی چکانا پڑتی''۔

ترکی نے ان یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں داعش سے کیا وعدہ کیا ہے یا کیا وعدہ نہیں کیا ہے،یہ ایک سربستہ راز ہے اور اس پر یرغمالیوں کی رہائی سے قبل بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔

بہت سے مبصرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس سفاک جنگجو گروپ نے اتنی زیادہ تعداد میں یرغمالیوں کو کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر ایسے ہی تو رہا نہیں کردیا ہوگا۔تاہم صدر طیب ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ترکوں کی رہائی کے بدلے میں کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا ہے۔

البتہ انھوں نے ان کے بدلے میں داعش سے قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے سوال کا دوٹوک انداز میں جواب نہیں دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے یا نہیں ہوا ،اس کو چھوڑیں ،بڑی بات یہ ہے کہ انچاس افراد ترکی لوٹ آئے ہیں۔ میں ان کے ساتھ کسی کا تبادلہ نہیں کروں گا''۔

استنبول کی قادر حس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر سرحت گووینچ نے خبردار کیا ہے کہ صدر کے اس خاص اشارے میں بہت کچھ پڑھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ان کا کہنا ہے کہ ''اس ایشو کے گرد دھند کی دبیز تہ چڑھی ہوئی ہے''۔